قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ وہ 1990 سے اسمبلی میں آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جو فوج کے حوالے سے الفاظ ادا کیے، ان پر قائم ہوں، میں نے کبھی جذباتی گفتگو نہیں کی۔ فوج میں کس صوبے کا کتنا حصہ ہے؟

اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ریمارکس دیے کہ آپ فوج کے بجائے شہدا کی بات کریں۔

محمود اچکزئی نے کہا کہ ہم نے انگریزوں کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دیں، جب کہ یہاں کے کچھ لوگ انگریزوں کے ساتھ تھے اور ہمارے خلاف لڑ رہے تھے۔ پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہمیں آبادی کے تناسب سے اپنا حصہ ملنا چاہیے۔

قائدِ حزبِ اختلاف نے مزید کہا کہ ہمیں حقِ حکمرانی میں اپنا جائز حصہ چاہیے۔ ہم یہ مطالبہ کسی تعصب کی بنیاد پر نہیں کر رہے۔ میں اس ملک کا شہری ہوں اور جمہوریت کے مخالفین کے خلاف آواز اٹھاتا رہوں گا۔ آپ نے ہمیں جمہوریت کی حمایت کرنے پر سزائیں دیں اور پشتونوں کی معاشی خودکشی کروا دی۔

یہ بھی پڑھیں: جو ڈاکو سرنڈر نہیں کرے گا، وہ مارا جائے گا، وزیر داخلہ سندھ

ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف نے کہا تھا کہ افغانوں کو شہریت دینے میں کوئی برائی نہیں۔ کیا یہ پارلیمنٹ مارشل لا کو جائز قرار دینے کے لیے ہے؟ آئین کے دائرے میں رہ کر کام کرنے والی فوج کو ہم سلام پیش کرتے ہیں۔

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپوزیشن لیڈر کے فوج سے متعلق بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔؎

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ کل اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پاکستان کی فوج چار اضلاع کی فوج ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیان کی ان سے توقع نہیں تھی۔ انہوں نے پاک فوج پر الزامات لگانے کی کوشش کی ہے، حالانکہ ہر ذی شعور شخص جانتا ہے کہ پاکستان کی فوج پورے ملک کی فوج ہے اور اس کا تشخص قومی ہے۔