ایوانِ صدر کے ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے وزیر داخلہ کو ٹیلی فون کر کے موجودہ صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور جلد از جلد ضلع بندی اور سیاسی کشیدگی کم کرنے کے مناسب اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔


ذرائع نے بتایا کہ صدر نے محسن نقوی سے کہا ہے کہ وہ براہِ راست دونوں صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطے کریں گے تاکہ صورتحال جلد کنٹرول میں آ سکے۔ صدر کی جانب سے یہ مداخلت دونوں صوبائی قیادتوں کے درمیان کشیدگی کے پھیلنے کے خدشے کو مدِنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔


واضح رہے کہ یہ کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ایک بیان پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے سخت تحفظات کا اظہار کیا اور قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کر دیا، ساتھ ہی مریم نواز سے اس بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا۔


مریم نواز نے اپنے موقف میں کہا کہ اگر کوئی پنجاب کے خلاف بات کرے گا تو وہ بطور وزیرِ اعلیٰ اس کا جواب دیں گی اور صوبے کے عوام کے مفاد کا دفاع کریں گی۔ ان کا واضح طور پر کہنا تھا کہ کسی سے معافی نہیں مانگی جائے گی۔


دوسری جانب سندھ حکومت کی جانب سے بھی بیان بازی جاری رہی۔ وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کو مباحثے (ڈیبٹ) کا چیلنج دیا۔ عظمیٰ بخاری نے چیلنج قبول کرتے ہوئے شرجیل میمن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سندھ میں 17 سالہ حکومت کے دوران وہ 17 منصوبے گنوا چکے ہیں۔


عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ وہ شرجیل میمن کو لاہور لے آئیں تو وہ بہاولپور، ملتان، لودھراں، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان کی مثالیں دکھا کر بتائیں گی کہ پنجاب نے کیا ترقیاتی کام کیے ہیں اور شرجیل میمن انہیں کشمور، نواب شاہ یا گڑھی خدا بخش لے جائیں کہ وہ اپنی کارکردگی واضح کریں۔