ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے بھارت کے خلاف بین الاقوامی ثالثی عدالت میں قانونی چارہ جوئی شروع کر رکھی ہے، تاہم بھارت نے اس عمل میں شرکت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے مؤقف کے حق میں قانونی اور سفارتی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور عالمی برادری کو بھی اس حوالے سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
بھارت کی داخلی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات تشویشناک ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہاں ہجوم کے ہاتھوں قتل کے واقعات اور مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہیں۔
افغانستان سے متعلق سوال کے جواب میں طاہر اندرابی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی سے متعلق پاکستان کے خدشات کی توثیق ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ اسلام آباد میں داعش کے حملے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھایا جا رہا ہے اور اس گروہ کا مبینہ ماسٹر مائنڈ افغانستان میں موجود ہے۔
غزہ سے متعلق مجوزہ پیس بورڈ اجلاس پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اس اہم اجلاس میں شرکت کریں گے جہاں آٹھ مسلم ممالک کا مشترکہ مؤقف پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کرتا ہے، جس کی سرحدیں 1967 سے قبل کی ہوں اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔
بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے،پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے کئی رافیل طیارے مار گرائے، تاہم مستقبل میں بھی کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کرکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے طاہر اندرابی نے کہا کہ کھیل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، پاکستان نے بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ساتھ میچز کھیلنے کا فیصلہ کھیلوں کی روایات اور اصولوں کے مطابق کیا ہے اور اس میں سیاست کو شامل کرنا درست نہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور تنازعات کے پرامن حل کا حامی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے گا تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کو فروغ مل سکے۔







