رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ شکایت کے باوجود ان کا علاج نہیں کرایا گیا،حکومت طبی سہولیات کی فراہمی کے معاملے پر کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈال رہی اور اگر بانی پی ٹی آئی کسی مخصوص ماہر چشم سے معائنہ کرانا چاہتے ہیں تو اس کی بھی اجازت دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جیل میں قید افراد کو قانون کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور عمران خان کو بھی دستیاب قواعد و ضوابط کے تحت تمام سہولیات دی جا رہی ہیں، اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے آنکھ میں تکلیف کی شکایت کی تھی لیکن جیل حکام نے بروقت توجہ نہیں دی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اگر طبی مسئلے پر فوری کارروائی نہیں کی گئی تو یہ مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔
”آج سب سے اہم مسئلہ عمران خان کی صحت کا ہے۔
— PTI (@PTIofficial) February 13, 2026
عمران خان کی آنکھ کی بینائی جانا ایک مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ اگر وقت پر عمران خان کا چیک اپ کروایا جاتا تو ان کی آنکھ کی بینائی کو بچایا جاسکتا تھا۔ یہ جان بوجھ کر عمران خان کے ساتھ ظلم کیا گیا ہے“
سینٹر علامہ راجہ ناصر عباس pic.twitter.com/1PHUlNHYYA
یاد رہے کہ اڈیالا جیل میں قید عمران خان کی سہولیات سے متعلق ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی تقریباً 15 فیصد تک محدود ہو چکی ہے۔ اس دعوے کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ طبی معاملات کو قواعد کے مطابق نمٹایا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس معاملے نے ایک بار پھر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ میں اضافہ کر دیا ہے، تاہم حتمی صورتحال طبی معائنے اور سرکاری رپورٹ کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔







