ہری پور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے بعد آئی پی پیز کے خلاف ملک گیر تحریک چلائی جائے گی کیونکہ ہر جماعت میں آئی پی پیز مافیا موجود ہے اور ان سے چھٹکارا حاصل کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہری پور ہزارہ ایک بڑا صنعتی علاقہ ہے جو حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے پستی کا شکار ہو رہا ہے۔ جہاں لاگت زیادہ اور اجرت کم ہوگی وہاں صنعتیں نہیں چل سکتیں، حکمران قرض پر قرض لے کر عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں۔
امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ سولر کے بعد پانی سے حاصل ہونے والی بجلی سب سے سستی ہوتی ہے، لیکن جو چھوٹے ڈیم بنانے کی بات کی جاتی ہے، عوام پوچھتے ہیں کہ کئی سال پہلے شروع کیے گئے ڈیموں کا کیا ہوا۔
انہوں نے پیپلزپارٹی اور ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان میں خاندانوں اور وڈیروں کی حکمرانی ہے، اپنی جماعتوں میں جمہوریت نہیں تو یہ ملک کو کیا جمہوریت دیں گے۔
بین الاقوامی امور پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسرائیل نے نسل کشی کی ہے، یہ قاتل اور دہشتگرد ہے اور وزیر اعظم نے اس ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام دینے کا کہا جو اسرائیل کا سرپرست ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا سے امیدیں باندھنے والا بھی اسی کے ساتھ ناکام ہوگا۔ انہوں نے اپوزیشن سے بھی اپیل کی کہ امریکا کی آئی ایس ایف کے خلاف جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔
بنگلہ دیش کے انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی برسوں تک قید اور پابندیوں میں جکڑی رہی، لیکن نوجوانوں نے بھرپور ساتھ دیا۔ جماعت اسلامی کو 70 سیٹیں ملنا کسی انقلاب سے کم نہیں ہے۔







