سیف علی خان کچھ وقت سے خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ ہوسکتا ہے وہ ہسپتال سے گھر چلے گئے ہوں اور خنجر کے حملے کے بعد صحت مند ہونے جا رہے ہوں مگر مشکلات اور پریشانیاں ان کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق تقریباً 15کروڑ مالیت کی جائیداد جس کے مالک پٹودی فیملی ہے اور جس کا حصہ سیف علی خان بھی ہیں، اینیمی پراپرٹی ایکٹ 1968کے تحت حکومت ضبط کر سکتی ہے۔
اس سے پہلے 2019 میں، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ان جائیدادوں پر لگائی گئی پابندی کو ہٹا دیا تھا۔ فیصلے میں ان میں سے کچھ جائیدادوں میں سیف کا بچپن کا گھر فلیگ اسٹاف ہاؤس، نور الصباح پیلس، دارالسلام، حبیبی کا بنگلہ، احمد آباد پیلس، کوہیفزہ پراپرٹی، اور دیگر شامل ہیں۔ اب، حکومت ان املاک کو اینیمی پراپرٹی ایکٹ کے تحت ضبط کر سکتی ہے، حکومت کو ان لوگوں کی جائیدادوں پر قبضہ کرنے کی اجازت دیتا ہے جو تقسیم کے بعد پاکستان ہجرت کر گئے تھے۔
اینیمی پراپرٹی ایکٹ 1968 کیا ہے؟
اینیمی پراپرٹی ایکٹ حکومت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ لوگ جو تقسیم ہند کے بعد انڈیا سے ہجرت کر کے پاکستان چلے گئے ہیں ان کی جائیداد ضبط کی جا سکتی ہیں۔ 1965 اور 1971 کی پاک انڈیا جنگ کے بعد بہت سے لوگوں نے اپنی جائیداد چھوڑتے ہوئے انڈیا سے پاکستان ہجرت کی۔
انڈیا کے دفاعی ایکٹ کے مطابق وہ لوگ جو پاکستان کی شہریت حاصل کر لیتے ہیں انڈین حکومت ان کی جائیداد ضبط کر سکتی ہے۔
مرکزی حکومت ان جائیدادوں کو “دشمن کی جائیداد” کے نام سے اپنے قانون میں لکھتی ہے۔ ایسا تب بھی ہوا تھا جب کچھ لوگ 1962 کی سائنو انڈین جنگ کے بعد چین ہجرت کر گئے تھے۔ اینیمی پراپرٹی ایکٹ میں 2017 میں ترمیم ہوئی اور یہ طے پایا کہ جو بھی شخص اپنا ملک چھوڑ کر کسی دوسرے ملک جائے گا چاہے وہ ملک انڈیا کا کسی بھی طرح سے دشمن ہو یا نہ ہو، اس کی جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے۔

پٹودی خاندان کی جائیداد اینیمی پراپرٹی ایکٹ سےکیسے تعلق رکھتی ہے؟
تقسیمِ ہند کے وقت ریاست بھوپال کے نواب حمیداللہ تھے۔ ان کی تین بیٹیاں تھیں جن میں سب سے بڑی عابدہ سلطان تھیں جو پاکستان ہجرت کر گئیں۔
دوسری بیٹی جو انڈیا میں ہی رہیں ان کا نام ساجدہ سلطان تھا اور ان کی شادی نواب افتخار علی خان پٹودی سے ہوئی جنہیں نواب آف پٹودی بھی کہا جاتا ہے۔ ساجدہ اپنے والد کی وفات کے بعد وراثت کی مالکن گئیں۔ساجدہ کا بیٹا منصور علی خان تھا جو کہ ایک کرکٹر تھے۔ ان کا بیٹاسیف علی خان ہے جو ساجدہ سلطان کا پوتا ہے اور جنہیں وراثت میں جائیداد ملی ہے۔
2014 میں اینیمی پراپرٹی ایکٹ کے تحت بھوپال میں پٹودی خاندان کی جائیداد کو اینیمی پراپرٹی کہا گیا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ عابدہ سلطان جو کہ ساجدہ کی بڑی بہن ہیں پاکستان ہجرت کر گئی تھیں اس لیے اس جائیداد کو اینیمی پراپرٹی کہا جا سکتا ہے۔
یہ مسئلہ تب پیداہوا جب 2016 میں پٹودی خاندان کی جائیداد کے متعلق آرڈیننس دیا جس کے مطابق انڈین حکومت نے کہا کہ ورثاء جائیداد کو حاصل نہیں کر سکتے۔
پٹودی کاندان کی جائیداد کو اینیمی پراپرٹی قرار دینے کے خلاف پٹودی خاندان نے 2015 میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں گئی۔ ہائی کورٹ نے اس وقت جائیداد کو پٹودی خاندان کی ہی رہنے دیا جب کہ بعد میں 2019 میں ساجدہ سلطان کو قانونی وارث تسلیم کر لیا۔
جب کہ پچھلے مہینے ہائی کورٹ نے سیف علی خان کی پٹیشن کو برطرف کر دیا۔
سیف اب تک پٹودی محل کےبھی قانونی وارث بھی ہیں۔ اس سے قبل یہ محل ایک ہوٹل چین کو لیز پر دیا گیا تھا۔

” سیف نے پہلے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ “میرے والد نے اسے لیز پر دیا اور فرانسس (واکزیرگ) اور امان (ناتھ)، جو وہاں ایک ہوٹل چلاتے تھے، جائیداد کی اچھی طرح دیکھ بھال کرتے تھے۔ میری والدہ (شرمیلا ٹیگور) کیا ایک چھوٹا سا گھر ہے اور وہ ہمیشہ بہت سکون سے رہتی ہیں”۔ سیف نے 2021 میں بالی ووڈ ہنگامہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، “یہ ایک منصفانہ مالیاتی انتظام تھا اور رپورٹس کے برعکس، مجھے اسے واپس خریدنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ میں پہلے ہی اس کا مالک تھا”۔
سیف اب محل کو گرمیوں میں استعمال کرتے ہیں اور اکثر اسے فلم کی شوٹنگ کے مقصد کے لیے فلم پروڈکشنز کو لیز پر دیتے ہیں۔
ہاؤسنگ ڈاٹ کام کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں، ان کی بہن سوہا نے محل کی تاریخ کے بارے میں کچھ اور یادیں شیئر کیں، اور کہا کہ سیف ہی اس کا مالک ہے۔ سوہا نے انکشاف کیا کہ ان کی دادی ساجدہ سلطان بھوپال کی بیگم تھیں اور ان کے دادا پٹودی کے نواب تھے۔ وہ کئی سالوں سے اس سے محبت کرتا تھا لیکن اس کے والد نے اسے اس سے شادی کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
پٹودی محل ان کے سسر کو متاثر کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ سوہا نے مزید کہا، “انہوں نے اسے 1935 میں بنایا تھا تاکہ وہ شادی کر سکیں۔ وہ اپنے سسر کو متاثر کرنا چاہتا تھا لیکن اسے بنانے کے آدھے راستے میں اس کے پاس پیسے ختم ہو گئے! اس لیے جب آپ وہاں جائیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں بہت سارے قالین ہیں اور ان میں سے کچھ کے نیچے سنگ مرمر کے فرش ہیں، لیکن ان میں سے اکثر میں عام سیمنٹ ہے، کیونکہ اس کے پاس پیسے ختم ہو گئے ہیں”۔
سیف علی خان نے ابھی تک عدالت کے اس نئے فیصلے پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی کچھ جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے۔ سیف علی خان 16 جنوری کو ممبئی میں ان کی رہائش گاہ پر ہونے والے چاقو کے حملے کے بعد صحت یاب ہو رہے ہیں جب ایک حملہ آور نے چوری کی ناکام کوشش کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی۔ اس عمل میں سیف کی ہاتھا پائی ہو گئی اور چور نے ان پہ چاقو سے وار کر دیا۔