سندھ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

شیلنگ اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں جماعت اسلامی کا ایک کارکن زخمی ہوگیا، جب کہ جماعت اسلامی کے کارکنوں کے مبینہ پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

پولیس نے جماعت اسلامی کا ساؤنڈ سسٹم سے لیس ٹرک تحویل میں لے لیا اور کم از کم 10 کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریڈ زون میں دفعہ 144 نافذ ہے اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس حوالے سے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی  فسطائیت  پورا ملک دیکھ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پرامن شہریوں پر آنسو گیس کی شیلنگ اور دھرنے سے روکنا حکومتی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو بااختیار شہری حکومت دی جائے اور شہر کے مسائل حل کیے جائیں۔

دوسری جانب شرجیل انعام میمن نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا کہ ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی کے مشتعل کارکنوں نے ریڈ زون میں داخل ہو کر پتھراؤ کیا جس کے بعد پولیس کو کارروائی کرنا پڑی۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سندھ اسمبلی میں داخل ہونے کی کوشش کی اور پولیس پر پتھراؤ کیا، جس پر آنسو گیس کی شیلنگ اور گرفتاریوں کا عمل عمل میں لایا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج ہفتہ کے روز اسمبلی بند تھی، ایسے میں اس اقدام کی کیا ضرورت تھی؟  سندھ اسمبلی صوبے کی اہم عمارت ہے اور کسی کو بھی مسلح ہو کر یا ڈنڈے لے کر اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

شرجیل میمن نے الزام عائد کیا کہ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی اور پولیس پر حملہ کیا۔

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ جماعت اسلامی شہر کے بنیادی حقوق اور پانی کی فراہمی کے لیے نکلی ہے۔ پیپلز پارٹی کراچی کو اس کے حقوق دینے کے لیے تیار نہیں اور کارکنوں پر تشدد ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے شرجیل میمن کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کارکنوں پر تشدد، آنسو گیس کی شیلنگ اور گرفتاری کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے 14 فروری کو کراچی کے حقوق کے لیے سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے نتیجے میں ریڈ زون کے اطراف سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ صورتحال کے بعد علاقے میں کشیدگی برقرار ہے، جب کہ مزید سیاسی ردعمل کی توقع کی جا رہی ہے۔