میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ اس عمر میں اکثر افراد کو نظر کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ “اگر عمران خان آخری لائن نہیں پڑھ سکتے تو اس عمر میں ہم بھی آخری لائن نہیں پڑھ سکتے، یہ کوئی سنگین صورتحال نہیں ہے،ابتدائی طور پر یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ عمران خان کی 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے، تاہم میڈیکل رپورٹ نے ان خدشات کو مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے  بتایا کہ عمران خان کی آنکھ ضائع نہیں ہوئی، انہیں ایک انجیکشن لگایا جا چکا ہے جبکہ دوسرا انجیکشن 25 تاریخ کو لگایا جائے گا، انجیکشن کے نتیجے میں آنکھ میں موجود خون کا لوتھڑا ختم ہو چکا ہے اور حالت میں واضح بہتری آئی ہے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کی رپورٹ الشِفا ٹرسٹ آئی اسپتال کے شعبہ امراضِ چشم کی جانب سے جاری کی گئی۔ میڈیکل بورڈ کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دائیں آنکھ کی نظر 6/36 سے بہتر ہو کر 6/9 جزوی تک پہنچ گئی ہے، جو کہ علاج کے مثبت نتائج کی نشاندہی کرتی ہے۔ بائیں آنکھ کی بینائی نارمل حد میں پائی گئی جبکہ چشمہ استعمال کرنے کے بعد بائیں آنکھ کی نظر 6/6 تک ریکارڈ کی گئی، جسے تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب راستوں کی بندش سے متعلق سوال پر شیر افضل مروت نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کو حکومت دی ہے، ایسے میں صوبے میں سڑکیں اور پل بند کرنا مناسب اقدام نہیں، اگر احتجاج کرنا ہے تو اسلام آباد میں کیا جائے۔

“کے پی میں سڑکیں بند کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اگر بند کرنا ہے تو اسلام آباد بند کریں، وہاں دھرنے دیں تاکہ بات سنی جائے،

 واضع رہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ سامنے آنے کے بعد پارٹی کارکنان میں پائی جانے والی بے چینی میں کمی آئے گی، جبکہ قیادت کی جانب سے بھی صورتحال کو معمول کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب احتجاجی حکمتِ عملی اور سیاسی دباؤ بڑھانے کے حوالے سے پارٹی کے اندر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں نہ صرف عمران خان کی صحت بلکہ سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت متوقع ہے۔