نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج میں شرکت نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مختلف مقامات پر احتجاج میں 20 سے 25 افراد موجود ہیں اور جتنے لوگ احتجاج کے لیے نکلے ہیں وہ قیدیوں کی ایک وین کے برابر بھی نہیں۔
احتجاج، دھرنے اور سڑکیں بند کرنے سے بانی پی ٹی آئی کا علاج نہیں ہونا، فیصل کریم کنڈی pic.twitter.com/CooJ6t5b1y
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) February 18, 2026
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اس وقت سیکیورٹی کے حوالے سے نازک صورتحال سے گزر رہا ہے، مگر اس کے باوجود صوبائی کابینہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے نام پر احتجاج میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی مشینری مظاہرین کی پشت پناہی کر رہی ہے، جو مناسب طرزِ عمل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت عمران خان کو مناسب اور مکمل طبی سہولت فراہم کر رہی ہے اور علاج کے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور خود یہ بیان دے چکے ہیں کہ وہ ماضی میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ’’اچھے بچے‘‘ تھے،ایسے بیانات سے سیاسی تضادات واضح ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ عمران خان کی صحت، بالخصوص آنکھ کے علاج کے معاملے پر پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے احتجاجی سلسلہ جاری ہے۔ پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کا معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے اور اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
خیبرپختونخوا اور وفاقی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صوبائی و قومی سیاست پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ایک جانب پی ٹی آئی اپنے قائد کی صحت کے معاملے کو بنیاد بنا کر دباؤ بڑھا رہی ہے، تو دوسری جانب حکومتی حلقے اسے سیاسی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔
موجودہ سیاسی ماحول میں بیانات اور جوابی بیانات سے درجہ حرارت مزید بڑھ سکتا ہے، تاہم اصل توجہ عمران خان کی صحت اور قانونی معاملات پر مرکوز رہنی چاہیے۔







