سپریم کورٹ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک بھر میں نوجوانوں کی ممبرشپ حاصل کی جائے گی اور فورس میں آئی ایس ایف، انصاف یوتھ ونگ، وومن ونگ، مائنارٹی ونگ، پروفیشنلز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پلیٹ فارم ایک منظم، مربوط اور پُرامن تحریک کے طور پر کام کرے گا۔

انہوں  نے واضح کیا کہ ’’عمران خان رہائی فورس‘‘ مکمل طور پر آئینی اور پُرامن جدوجہد کرے گی، فورس کا مقصد کسی قسم کی بدامنی پھیلانا نہیں بلکہ جمہوری اور قانونی طریقے سے آواز بلند کرنا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کی رہائی کے بعد یہی فورس خود ان کی ہدایت پر تحلیل کر دی جائے گی۔

انہوں  نے بتایا کہ ممبرشپ کارڈز آئندہ چار سے پانچ روز میں تیار ہو جائیں گے جبکہ عید کے بعد پشاور میں نوجوانوں سے باضابطہ حلف لیا جائے گا،تحریک کے لیے مضبوط چین آف کمانڈ تشکیل دی جائے گی اور تمام ہدایات عمران خان کی نامزد قیادت کے ذریعے جاری ہوں گی۔

ان  کا کہنا تھا کہ یہ جدوجہد حقیقی آزادی، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام اور آزاد میڈیا کے لیے ہوگی،عزت اور ذلت منصب سے وابستہ نہیں بلکہ اللہ کے اختیار میں ہے، اور عمران خان جیل میں ہونے کے باوجود عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔

مزید پڑھیں: احتجاج اور سڑکیں بند کرنے سے عمران خان کا علاج نہیں ہوگا: فیصل کریم کنڈی

انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے مشکل حالات میں بھی صبر اور وفاداری کا مظاہرہ کیا ہے اور آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، پاکستان تحریکِ انصاف عدالتی احکامات کی مکمل پابندی کرتی ہے اور تمام اقدامات آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کیے جائیں گے۔

واضع رہے کہ  ’’عمران خان رہائی فورس‘‘ کے قیام کا اعلان ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ سکتا ہے۔ ایک جانب پی ٹی آئی اس اقدام کو منظم اور پُرامن سیاسی جدوجہد قرار دے رہی ہے، جبکہ مخالف جماعتیں اسے سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی قرار دے سکتی ہیں۔

آئندہ دنوں میں اس فورس کی تنظیمی ساخت، حکمت عملی اور عوامی ردعمل سیاسی منظرنامے پر اثرانداز ہو سکتا ہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری کشیدگی میں بھی شدت آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔