فرانسیسی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں وزیرِ دفاع نے کہا کہ پاکستان پر ہونے والے حملے طالبان اور انڈیا کی پراکسی جنگ کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہلی، کابل اور مختلف دہشت گرد گروہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، داعش اور دیگر شدت پسند تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں اور پاکستان میں ہونے والے حملے کابل کی مرضی یا سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان پر عملی کنٹرول انہی عناصر کے پاس ہے، اس لیے اگر ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے تو اس کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ اگر کابل امن کی ضمانت دے تو دشمنی کی کوئی وجہ نہیں، تاہم موجودہ صورتِ حال میں سرپرستی اور سازش کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بعض دوست ممالک نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی کوشش کی۔ وہ استنبول، دوحہ اور کابل میں ہونے والی ملاقاتوں میں شریک رہے، لیکن ان کوششوں کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ جنگ کا امکان اب بھی موجود ہے۔ ان کے بقول گزشتہ سال مئی میں چار روزہ جھڑپوں کے دوران انڈیا کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  بھی مختلف مواقع پر طیاروں کی تعداد کا ذکر کرتے رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ انڈیا کو بین الاقوامی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اسے ایک ایسے ملک کے ہاتھوں نقصان اٹھانا پڑا جو جغرافیے اور فوجی حجم کے اعتبار سے اس سے چھوٹا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بیرونی سرپرستی سے ہونے والے ’دہشت گردی‘ کا خاتمہ ریاست کی اولین ترجیح ہے، صدرِ پاکستان

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فضائیہ نے اپنی فضائی حدود میں دراندازی کی ہر کوشش ناکام بنائی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہلی کے کابل سے قریبی تعلقات ہیں اور اس وقت پاکستان اور انڈیا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ کوئی رابطہ موجود نہیں۔

غزہ اور فلسطین کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ یہ مسئلہ پاکستانی عوام کے دل کے بہت قریب ہے۔ پاکستان کئی برسوں سے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں بھرپور کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس شعبے میں وسیع تجربہ رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہر دستیاب عالمی فورم پر فلسطین کے مؤقف کی حمایت کی ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔