عسکری ذرائع کے مطابق گزشتہ رات کی جانے والی ایئر اسٹرائیک میں صوبہ ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں موجود فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک 80 سے زائد خوارجی ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ ہلاکتوں میں اضافے کا بھی امکان ہے۔
پاکستان کی جانب سے انٹیلی جینس بینڈ ایئر اسٹرائیک میں ننگر ہار ، پکتیکا اور خوست میں کارروائی کی گئی، سیکیورٹی ذرائع pic.twitter.com/inS4g1GEZY
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) February 22, 2026
عسکری حکام کے مطابق تباہ کیے گئے مراکز میں نیا مرکز نمبر ایک (ننگرہار)، نیا مرکز نمبر دو (ننگرہار)، خارجی مولوی عباس مرکز (خوست)، خارجی اسلام مرکز (ننگرہار)، خارجی ابراہیم مرکز (ننگرہار)، خارجی ملا رہبر مرکز (پکتیکا) اور خارجی مخلص یار مرکز (پکتیکا) شامل ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر افغانستان کے مشرقی علاقوں میں بڑا انٹیلی جنس بیسڈ فضائی آپریشن کیا تھا، جس کے دوران شدت پسندوں کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کارروائی کے نتیجے میں طالبان کمانڈر اختر محمد سمیت متعدد دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں جیٹ طیاروں نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو درستگی سے نشانہ بنایا، جہاں زور دار دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں۔ کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے زیرِ استعمال تنصیبات کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق پکتیکا کے بعد ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں بھی فضائی کارروائی کی گئی، جہاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور مبینہ تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
افغانستان کے مرغہ نامی علاقے میں واقع بنوسی مدرسہ میں دھماکے کے نتیجے میں 10 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ علاقہ کمانڈر خارجی اختر محمد کے مرکز سے منسلک بتایا جاتا ہے۔
ننگرہار کے شہر جلال آباد کے ضلع کامی میں بھی دو اہداف کو جیٹ طیاروں کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، جب کہ فضائی نگرانی اور پروازوں کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔
صوبہ پکتیکا کے علاقے برمل میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں کئی شدت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق طالبان کمانڈر اختر محمد پکتیا میں مارا گیا۔
مختلف علاقوں میں کی گئی بمباری کے نتیجے میں دہشت گردوں کا بنیادی ڈھانچہ (انفراسٹرکچر) تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب وزارت اطلاعات و نشریات پاکستان نے کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جنگی طیاروں نے دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے جواب میں پاکستان افغانستان سرحدی علاقے میں خارجی دہشت گردوں، فتنہ الخوارج اور اس سے منسلک گروہوں نیز داعش خراسان سے وابستہ عناصر کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلی جنس بنیادوں پر نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا اور انہیں تباہ کر دیا۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع اور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف خارجیوں اور دہشت گردوں کے استعمال سے روکے، کیونکہ پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ سب سے مقدم ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے طالبان حکومت کو دوحہ معاہدہ کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری پر آمادہ کرے، تاکہ کسی بھی ملک کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کو روکا جا سکے، جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کے پاس ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ حالیہ دہشت گردی کے اقدامات خارجی عناصر نے افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور ہینڈلرز کی ایما پر انجام دیے۔ ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) اور اس سے منسلک گروہوں سمیت داعش خراسان نے بھی قبول کی ہے۔
حکام کے مطابق اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ پر حملہ، باجوڑ اور بنوں میں پیش آنے والے واقعات اور ماہِ مقدس رمضان کے دوران بنوں میں ہونے والا خودکش دھماکہ انہی عناصر کی کارروائیاں تھیں۔
پاکستان کی جانب سے افغان طالبان حکومت پر بارہا زور دیا گیا ہے کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسیز کے استعمال سے روکے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ افغان حکومت ان عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اب دہشتگردوں کے خلاف ان کی موجودگی کے مقام سے قطع نظر بلارعایت کارروائیاں کریں گے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق طالبان حکومت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال سے روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت ٹرمپ کی خوشنودی میں مصروف، عوام مہنگائی اور بدانتظامی کا شکارہے: حافظ نعیم الرحمان
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اب دہشتگردوں کیخلاف انکی موجودگی کے مقام سے قطع نظر بلارعایت کارروائیاں کرے گا۔
گزشتہ روز بنوں میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے کے تانے بانے بھی افغانستان کے گل بہادر گروپ سے ملے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے بنوں بڑے سانحے سے بچ گیا، دہشت گردوں کے بنوں شہر میں معصوم شہریوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے گئے۔
شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ فورسز نے آپریشن کے دوران خوارج کا سراغ لگایا، گاڑی میں سوار خودکش حملہ آور کو اگلے دستے نے بروقت روک لیا، خوارج نے مایوسی میں بارود سے بھری گاڑی اگلے دستے کی ایک گاڑی سے ٹکرائی، حملے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گلفرازاور سپاہی کرامت شاہ شہید ہوگئے جبکہ سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 5 خوارج مارے گئے۔






