یہ اتفاقِ رائے وزیراعظم شہباز شریف کے پانچ تا سات اکتوبر 2025 کے سرکاری دورہ ملائیشیا کے دوران وزیراعظم انور ابراہیم سے ملاقات میں ہوا۔ یہ شہباز شریف کا وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد ملائیشیا کا پہلا دورہ تھا۔
دونوں رہنماؤں نے گرمجوش اور خوشگوار ماحول میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے 1957 میں قائم ہونے والے تاریخی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے باہمی تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے، کاروباری سہولیات فراہم کرنے اور MPCEPA کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔ ملائیشیا نے پاکستان کو پام آئل کی برآمدات میں اضافہ کرنے کا عندیہ دیا، جب کہ دونوں ممالک نے ماحول دوست اور پائیدار سپلائی چین قائم کرنے پر اتفاق کیا۔
پاکستان اور ملائیشیا نے حلال مصنوعات و خدمات کے فروغ اور حلال سرٹیفیکیشن کے باہمی اعتراف پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک پائیدار زرعی پیداوار، تحقیق اور اختراعات کے لیے مشترکہ منصوبے شروع کریں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ 1997 سے قائم Joint Committee on Defence Cooperation (JCDC) کے تحت دفاعی تعلقات مستحکم ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے دفاعی سائنس و ٹیکنالوجی میں تعاون اور نالج ٹرانسفر بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے تعلیم، ٹیکنیکل و ووکیشنل ٹریننگ، اور طبی آلات و ادویات کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ملائیشیا نے “وزٹ ملائیشیا2026” اور “میڈیکل ٹوورزم2026” مہمات کے تحت پاکستانی سیاحوں کو خوش آمدید کہا۔
اعلامیے میں پاکستانی برادری کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے افرادی قوت، ٹیکنیکل تربیت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کا بھی عزم ظاہر کیا گیا۔
دونوں ممالک نے قابلِ تجدید توانائی، موسمیاتی مزاحمت اور صاف توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری پر اتفاق کیا۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی اور سائنسی تعاون کے فروغ کو بھی ترجیح دینے کا عہد کیا گیا۔
اعلامیے میں افغانستان میں پائیدار امن، جامع حکومت اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تعاون جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقوام متحدہ، او آئی سی اور ڈی-8 سمیت عالمی تنظیموں میں مشترکہ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اسلاموفوبیا، نفرت انگیزی اور تشدد کی تمام صورتوں کی مذمت کی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مذہبی برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے نئے خصوصی نمائندے کی تقرری کا خیرمقدم کیا۔
اعلامیے میں دونوں ممالک نے غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو خودارادیت کے حق اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق آزاد ریاست کے قیام کا حق حاصل ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔
دونوں رہنماؤں نے فوری اور مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشیائی ہم منصب انور ابراہیم اور حکومتِ ملائیشیا کا پرتپاک استقبال اور شاندار مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا، اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو خطے کے امن و ترقی کے لیے مثالی قرار دیا۔







