راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے سماعت کے دوران علیمہ خان اور ان کے وکیل کی مسلسل غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کیا اور ملزمہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری ایک بار پھر جاری کر دیے۔

پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان جان بوجھ کر ٹرائل میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں اور بار بار التوا مانگ کر عدالتی کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مقدمے کا ٹرائل آخری مراحل میں ہے اور استغاثہ کے دو گواہان پر جرح باقی ہے، لیکن ملزمہ عدالتی کارروائی میں تعاون نہیں کر رہی ہیں۔

پراسیکیوٹر نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان کی غیر حاضری کے باعث مقدمے کی پیش رفت متاثر ہو رہی ہے، اور عدالتی کارروائی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: ہتکِ عزت دعویٰ: سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روک دیا، شہباز شریف کو نوٹس جاری

عدالت نے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کے لیے پولیس کو ہدایت جاری کی اور سماعت کو اگلے دن تک ملتوی کر دیا۔ عدالت کی جانب سے دو ضامنوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنا بھی اس بات کی علامت ہے کہ عدالتی کارروائی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق 26 نومبر کے احتجاج کیس میں یہ کارروائی سیاسی حلقوں میں بھی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس سے نہ صرف قانونی دائرہ کار میں علیمہ خان کی ذمہ داری واضح ہوئی ہے بلکہ آئندہ سماعتوں میں ممکنہ پیش رفت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس کس حد تک وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کرتی ہے اور ملزمہ وارنٹ کے باوجود عدالت میں پیش ہوتی ہیں یا نہیں۔ سماعت کے بعد قانونی ماہرین نے کہا کہ آئندہ دنوں میں کیس کی پیش رفت اہم سیاسی اور قانونی نتائج رکھ سکتی ہے۔