سینیٹ میں خطاب کے دوران راجا ناصر عباس نے عمران خان سے ملاقات کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف جعلی مقدمات قائم کیے گئے ہیں، انہیں اپنی بہنوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی اور ان کو ایک اور انجیکشن لگایا جانا ہے۔

اس پر ردعمل دیتے ہوئے حکومتی سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر ایک شخص ضد پر اڑا ہو اور کسی بات پر آمادہ نہ ہو تو ایسے میں کیا کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کی بہتری کے لیے بات چیت پر تیار ہے، لیکن دوسری جانب سے سیاسی عمل کا حصہ بننے سے مسلسل انکار کیا جا رہا ہے۔

رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ جو لوگ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں، آپ ان سے مذاکرات نہیں کرتے، جب کہ جو مذاکرات پر آمادہ نہیں، انہیں آپ درخواستیں دیتے پھر رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کے علاج کا معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ سپریم کورٹ اس کا نوٹس لے چکی ہے اور عدالت نے ایک امیکس کیوری (فرینڈ آف دی کورٹ) بھی مقرر کیا ہے۔ ان کے بقول حکومت کی جانب سے عمران خان کا علاج بھی کرایا گیا ہے۔