ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر زرداری نے اپنے خط میں کہا کہ یہ تقریبات امیرِ کویت کی دانشمندانہ قیادت میں کویتی قوم کی اتحاد، استقامت اور مسلسل ترقی کی عکاس ہیں۔ صدر نے پاکستان اور کویت کے تاریخی روابط پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور علاقائی امن و خوشحالی کے مشترکہ عزم پر قائم ہیں۔

انہوں  نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور کویت کے تعلقات صرف رسمی یا سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، دفاعی تعاون اور عوامی سطح پر روابط کے ذریعے بھی مضبوط ہو رہے ہیں، کویت میں مقیم پاکستانی برادری کو دونوں ممالک کے درمیان اہم پل قرار دیا، جو کویت کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر رہی ہے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنا رہی ہے۔

انہوں  نے یقین دلایا کہ پاکستان کویت کی ترقی اور خوشحالی کے سفر میں تعاون کو مزید فروغ دے گا اور دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات مستقل اور مضبوط رہیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے امیرِ کویت کی صحت و تندرستی، کویتی عوام کی خوشحالی اور پاکستان و کویت کے درمیان تعلقات کی پائیدار مضبوطی کے لیے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا۔

صدر زرداری کے اس اقدام کو دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات میں اضافہ اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔