نجی نشریاتی ادارے اے آر وائی کے نجی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ غزہ میں قیامِ امن ہر کسی کی خواہش ہے، غزہ میں جلد امن اور خوشحالی دیکھیں گے، ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کرنے والوں میں پاکستان کی نمائندگی شامل تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹر مشتاق احمد کی رہائی کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہتا ہوں۔ سینیٹر مشتاق نے بہترین کردار ادا کیاہے، ان کا بھرپور استقبال کیا جائے گا۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ کبھی اس بات پر شکوہ نہیں کیا کہ مسئلہ کشمیر پر ہمیں کس نے اسپورٹ کیا اور کس نے نہیں کیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد دنیا ہمیں سراہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج امتِ مسلمہ کی افواج بن کر ابھری ہے، ٹرمپ کو ہی دیکھ لیں پاکستان کے علاوہ کوئی اور بات نہیں کرتا۔موقع ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل نکالیں۔


مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کی جماعت اسلامی کے خلاف مہم، فائدہ کس کو پہنچایا گیا؟


فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ جنگوں سے مسائل کے حل نہیں نکالے جاسکتے، جنگوں کے بعد بھی بات چیت سے ہی حل نکالے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سفارتی ذرائع سے ہم اسرائیل کو بھی کارنر کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے جواب کی وجہ سے انڈیا پہلے ہی سکتے میں ہے، انڈیا کو دوبارہ جواب چاہیے؟ غلط فہمی کا شکار ہے تو غلطی کرکے دیکھ لے، میں نہیں سمجھتا کہ انڈیا کوئی دوبارہ غلطی کرے گا۔

گورنر کے پی نے کہا ہے کہ  سیاسی معاملات کو سیاسی طور پر حل کرنا چاہیے، سیاسی لوگ ہیں ذاتیات کا ایشو بنائیں گے تو ساتھ نہیں بیٹھ سکیں گے۔ ماضی سے ہمیں سیکھنا چاہیے، اگر غلطیاں دہرائیں گے تو نقصان ہوگا۔