نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق تمام فیصلے ان کی فیملی کرے گی اور پارٹی ہر جائز مطالبے میں ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ علیمہ خان کی تشویش فطری ہے اور خاندان کو مریض کی صحت کے حوالے سے مکمل آگاہی اور رسائی ملنی چاہیے، بشمول ذاتی معالج کی موجودگی کے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے معاملے پر فیملی کو پیشگی اطلاع نہ دینا مناسب نہیں تھا، شفیع جان کا کہنا تھا کہ جیل مینوئل کے مطابق طریقہ کار پر عمل ہونا چاہیے۔

عمران خان رہائی فورس سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ فورس کے قیام کا فیصلہ ہو چکا ہے اور یہ اسٹریٹ موومنٹ کا حصہ ہوگی۔ ان کے مطابق پارٹی کے اندر مشاورت کے دوران مختلف آرا سامنے آنا فطری امر ہے، تاہم حتمی فیصلوں پر سب متحد ہیں۔


انہوں نے کہا کہ بڑی سیاسی جماعتوں میں اختلافِ رائے ہوتا ہے، لیکن عوامی سطح پر اتحاد برقرار رکھا جاتا ہے۔

شفیع جان نے مزید کہا کہ عمران خان سے ملاقات فیملی کا بنیادی حق ہے اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد ہونا چاہیے، جبکہ پارٹی کارکنان کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں۔