ترجمان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امیر قطر کی دعوت پر دوحا کا دورہ کیا، جس میں دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دورے کے دوران افغانستان کے معاملات اور دفاع کے شعبے پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جبکہ قطر نے پاکستان کے دورے کی دعوت قبول کر لی۔

مزید برآں، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار او آئی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیر معمولی اجلاس میں پاکستانی مؤقف پیش کرنے سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں۔ ترجمان نے مغربی کنارے کو اسٹیٹ لینڈ میں تبدیل کرنے کے اسرائیلی اقدام کی بھی مذمت کی۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے ماہر افرادی قوت کے لیے اٹلی 10,500 ورک ویزے جاری کرے گا

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر رہا ہے اور دہشتگردی کے دستاویزی ثبوت اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں بھی پیش کیے جا چکے ہیں۔ قطر کی جانب سے پاک افغان مصالحت کی کوششیں خوش آئند ہیں، تاہم افغانستان کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات افسوسناک ہیں، اور پاکستان کی افواج و قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل تیار ہیں۔

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت، خصوصاً کشتواڑ ضلع میں 3 نوجوانوں کی شہادت کی بھی مذمت کی اور کہا کہ بھارت جعلی انکاؤنٹرز اور کسٹوڈیل کلنگز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ترجمان نے برطانوی پارلیمنٹ میں عمران خان کے حقوق کی خلاف ورزی پر ہونے والی بات چیت کو بھی مداخلت قرار دیا۔

آخر میں ترجمان نے آپریشن سوفٹ ریٹارٹ کی سالگرہ کو یادگار ملٹری واقعہ قرار دیا۔