ان کے مطابق اب تک 16 پوسٹیں تباہ کی جا چکی ہیں، جب کہ سات پوسٹوں پر قبضہ حاصل کیا گیا ہے۔ مزید برآں ایک ایمونیشن ڈپو، بٹالین ہیڈکوارٹر، سیکٹر ہیڈکوارٹر اور 36 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز بھی تباہ کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جوابی کارروائیاں بدستور جاری ہیں اور ہر قسم کی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان۔افغانستان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی جانب سے کی گئی بلا اشتعال فائرنگ کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان اور بعض بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس جھوٹے اور بے بنیاد پراپیگنڈے میں مصروف ہیں جس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔

عطا تارڑ کے مطابق عملی میدان میں ناکامی کے بعد افغان طالبان افواہوں اور جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں، تاہم انہیں اس طرز عمل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل کی کارروائیوں میں 36 طالبان مارے گئے تھے، جب کہ وطن کا دفاع کرتے ہوئے پاک فوج کے دو جوان شہید اور تین زخمی ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں پاکستان نے ملک اور خطے میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف کامیاب آپریشن کیا، جس کے بعد سرحدی علاقوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرحد پار سے فائرنگ شدت پسند عناصر کی پشت پناہی کو ظاہر کرتی ہے۔


وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھاتا رہے گا اور کسی بھی دشمن کے ناپاک عزائم کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے۔

پاک افغان سرحد پر جاری جھڑپوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی مبینہ بلا اشتعال دراندازی کے جواب میں بھرپور کارروائی کی۔ آپریشن غضب للحق کے تحت کرم سیکٹر سمیت مختلف علاقوں میں طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے جس کے نتیجے میں تقریباً 44 افغان طالبان ہلاک ہوئے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کرم سیکٹر کے قریب مزید 8 جنگجو مارے گئے جبکہ ننگرہار کے اندر ایک بڑا ایمونیشن ڈیپو تباہ کیا گیا جس سے طالبان کے جنگی سازوسامان کو شدید نقصان پہنچا۔ لڑاکا ڈرون بھی کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں اور افغان فورسز و پوسٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ مسلح افواج نے اعادہ کیا کہ ملکی سلامتی اور سرحدی حدود کے تحفظ کے لیے کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات کے بیان میں کہا گیا کہ چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں طالبان کو سخت نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغان جانب بھاری جانی نقصان ہوا ہے جبکہ متعدد پوسٹس اور عسکری سازوسامان تباہ ہو چکے ہیں۔ باجوڑ کے نواگئی، خیبر کے تیراہ، مہمند اور چترال کے ارندو میں طالبان پوسٹس مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

تورخم بارڈر پر صورتحال کے حوالے سے سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی افواج کی مؤثر کارروائی کے بعد افغان طالبان وہاں سے پیچھے ہٹ گئے اور ٹرکوں پر سامان لاد کر افغانستان کی جانب روانہ ہوئے۔

باجوڑ کے سرحدی علاقوں میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب مبینہ طور پر سرحد پار سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان اور ایک کمسن لڑکی زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ انتظامیہ کے مطابق دونوں زخمی خطرے سے باہر ہیں۔

وزیراعظم کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ 26 فروری کی رات 11:40 بجے تک کی صورتحال کے مطابق نہ تو کسی پاکستانی چوکی پر قبضہ ہوا اور نہ ہی کسی چوکی کو نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق سرحد پار بھاری نقصان پہنچایا گیا جبکہ کسی پاکستانی فوجی کے گرفتار یا شہید ہونے کی اطلاعات درست نہیں۔ انہوں نے ملک کو نقصان پہنچنے کے دعوؤں کو بے بنیاد اور بھارت کے حمایت یافتہ عناصر کا پراپیگنڈا قرار دیا۔

بیرسٹر گوہر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان جہاں ممکن ہو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن کا خواہاں ہے، تاہم درپیش خطرات کا مقابلہ کیا جائے گا اور ہر دشمن کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔



دوسری جانب طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج کے مخصوص حلقے کی مبینہ سرکشی کے جواب میں ڈیورنڈ لائن کے ساتھ واقع فوجی مراکز اور تنصیبات کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ قومی سلامتی اور سرحدی حدود کے تحفظ کے لیے قانونی اور مؤثر کارروائی کی گئی ہے۔