پاک افغان سرحدی صورتحال اور سیکیورٹی آپریشنز سے متعلق اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب پاکستانی افواج نے سرحد کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق افغان طالبان رجیم نے اس کارروائی کو جواز بنا کر بعد ازاں نام نہاد ایکشن شروع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ طالبان رجیم کی جانب سے پاک افغان سرحد پر 15 سیکٹرز میں مجموعی طور پر 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی، تاہم پاکستانی افواج نے تمام حملوں کو کامیابی سے پسپا کر دیا اور ہر مقام پر دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران طالبان رجیم کی 73 سے زائد پوسٹس تباہ کی گئیں جبکہ 18 چوکیاں پاکستانی فورسز کے قبضے میں آ چکی ہیں۔ مزید برآں دشمن کے 115 ٹینک اور بکتربند گاڑیاں بھی تباہ کی جا چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فورسز نے صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا اور کسی بھی عام شہری کو ٹارگٹ نہیں کیا گیا۔ کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 22 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ کابل، پکتیا اور قندھار میں موجود اہداف کو انتہائی درستگی سے ہدف بنایا گیا۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اور اسلحہ ڈپو تباہ کر دیے گئے جبکہ شدت پسند اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق جاری آپریشن کے دوران پاک فوج کے 12 جوان شہادت کا رتبہ پا چکے ہیں، 27 اہلکار زخمی ہیں جبکہ ایک جوان لاپتا ہے۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر پاکستان میں کہیں بھی دہشت گردی کی کوئی کارروائی ہوئی تو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، چاہے وہ جہاں بھی موجود ہوں۔