سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ صیہونیت انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی ہے، فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے قیام کے بعد سے اسلامی دنیا کو جن جنگوں اور بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا، ان کے پس منظر میں صیہونی سوچ کارفرما رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی معاشی نظام پر بھی ایک صدی سے صیہونی اثر و رسوخ موجود ہے اور بڑی طاقتیں اس کے زیر اثر ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے اور ہماری افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو دنیا تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی قربانیوں کی بدولت پاکستان کی خودمختاری محفوظ ہے۔ انہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے فیصلے کو جرات مندانہ اقدام قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ایک منظم ایجنڈے کے تحت خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا مقصد پاکستان کو چاروں طرف سے دباؤ میں لانا اور اسے کمزور ریاست میں تبدیل کرنا ہے،افغانستان، ایران اور بھارت کے بعض عناصر کے مشترکہ عزائم پاکستان دشمنی پر مبنی ہیں اور اس سازش کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے پاکستانی قوم سے اپیل کی کہ وہ داخلی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی سلامتی کے معاملات پر متحد ہو جائے۔ وزیر دفاع نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ عالم اسلام کو اتحاد عطا کرے، دشمن کو پہچاننے کی توفیق دے اور پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں قومی یکجہتی اور افواج پاکستان پر اعتماد ہی ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے۔