انڈین میڈیا کے مطابق حادثہ ضلع کے چوکی ہولا کے تحت نیلیپ بلاک کے قریب ایک دور دراز پہاڑی علاقے میں پیش آیا۔ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ شام سات بجے کے قریب ایک زور دار دھماکے جیسی آواز سنی گئی جو آس پاس کی پہاڑیوں میں گونجی اور بستیوں میں خوف پھیل گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد پہاڑیوں کی سمت سے دھواں اٹھتا ہوا بھی دیکھا گیا۔
An IAF Su-30 MKI is reported overdue. The aircraft had taken off from Jorhat, Assam and was last in contact at 7.42 pm.
— Indian Air Force (@IAF_MCC) March 5, 2026
Further details are being ascertained. Search and Rescue mission has been initiated.@DefenceMinIndia@SpokespersonMoD@HQ_IDS_India@adgpi@Indiannavy
انڈین ائیر فورس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انڈین فضائیہ کا سخوئی ایس یو ایم 30 لڑاکا طیارہ جورہاٹ، آسام سے اڑان بھرنے کے بعد لاپتہ ہو گیا ہے۔ طیارے کا آخری رابطہ جمعرات کو شام 7:42 بجے ہوا تھا۔
انڈین میڈیا کے مطابق حادثے کی مشتبہ جگہ جنگل اور پہاڑی علاقوں میں واقع ہے، جو انسانی رہائش سے دور ہے، اس لیے مقامی باشندوں کے لیے فوری رسائی مشکل ہے۔
دوسری جانب ابھی تک پائلٹس یا طیارے کی حالت کے بارے میں کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ حکام زمین سے موصول ہونے والی اطلاعات کی تصدیق کر رہے ہیں اور ریسکیو ٹیموں کے علاقے میں پہنچنے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔
IAF launches search and rescue mission after Su-30 MKI reported overdue
— ANI Digital (@ani_digital) March 5, 2026
Read @ANI Story | https://t.co/EWblZxndcS#IAF #su30 #MKI pic.twitter.com/7nlckBhSgf
خیال رہے کہ جون 2024 میں مہاراشٹر کے ناسک ضلع میں بھی سخوئی ایس یو 30 ایم کے آئی لاپتہ ہو گیا تھا۔ فضائیہ کے مطابق طیارہ تحصیل نفاد کے گاؤں شیرسگاؤں کے قریب گر کر تباہ ہوا، تاہم پائلٹ اور کو پائلٹ محفوظ رہے۔
واضح رہے کہ سخوئی ایس یو ایم 30 ایک جڑواں انجن، دو سیٹوں والا 4.5 جنریشن لڑاکا طیارہ ہے جو فضائی برتری کے مشن کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اصل میں روس کے سخوئی نے تیار کیا ہے، جب کہ ہندوستان میں اسے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ تیار کرتی ہے۔






