وزیراعلیٰ نے اجلاس میں 3 ماہ کے اندر فلڈ زون خالی کرنے کی منظوری دی اور کہا کہ دریا کی گزرگاہوں میں غیر قانونی تعمیرات پر مکمل پابندی لازم ہوگی، کسی بھی غیر قانونی تعمیرات سے ہونے والے نقصانات کی صورت میں امداد نہیں دی جائے گی۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ چنیوٹ میں بند بنانے کی اصولی منظوری دی جائے اور فلیٹ ایبل ڈیم ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے تاکہ پانی کے ذخائر کو بہتر طریقے سے منظم کیا جا سکے۔ پنجاب کے 17 مقامات پر منی ڈیم بنانے، کالا باغ اور سدھنائی میں آبی ذخائر کی استعداد بڑھانے، اور پی ڈی ایم اے کی ری اسٹرکچرنگ کے ساتھ 8 نئے ونگز قائم کرنے  پر بھی اتفاق کیا گیا۔

مزید برآں، اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر، ریجنل ڈیزاسٹر اور ویئر ہاؤس قائم کرنے کی منظوری دی گئی تاکہ سیلابی صورتحال میں فوری ردعمل ممکن ہو۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ رابطہ سڑکوں کی بحالی مکمل کر دی گئی ہے، جن میں 563 کلومیٹر طویل 186 روڈز، 446 پل اور ایک اہم پل شامل ہیں۔

انہوں  نے ریسکیو 1122 کے لیے جدید آلات، 10 لینڈنگ کرافٹ، بیڑے، بوٹ کیریر ٹرک، نیویگیشن اور کمیونیکیشن کے جدید آلات، فلائنگ لائف بوائے جیکٹ اور دیگر ضروری سامان فراہم کرنے کی منظوری دی تاکہ فلڈ آپریشنز کو موثر بنایا جا سکے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ  پنجاب میں 5 دریاؤں کے فلڈ زونز  کے حوالے سے 1990 ہائی رسک، 1278 میڈیم رسک اور 3169 لو رسک زونز ہیں۔ صوبے میں 183 آبپاشی کے منصوبے جاری ہیں جبکہ 298 ڈرین، سیلابی نالے اور 67 ڈرینج سسٹمز کی ڈی سیلٹنگ کی جائے گی تاکہ پانی کی نکاسی بہتر ہو۔ آئندہ سال بارشوں میں 28 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس کے پیش نظر شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم پلاننگ پر تفصیلی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کی گئی۔

مزید پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر آفس اعتراضات، عدالت کی اہم ہدایت جاری

انہوں نے اجلاس میں زور دیا کہ ہر اقدام منصوبہ بندی کے تحت اور بروقت ہو تاکہ آئندہ آنے والے سیلابی خطرات کو مؤثر طریقے سے کم کیا جا سکے۔متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ عوام کو بھی فلڈ زونز اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے مکمل آگاہی فراہم کی جائے تاکہ جان و مال کا نقصان کم سے کم ہو۔

یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پنجاب حکومت سیلاب سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مربوط انتظامات کے ذریعے استعداد بڑھانے پر زور دے رہی ہے، تاکہ آئندہ کسی بھی سیلابی صورتحال میں فوری اور مؤثر ردعمل ممکن ہو سکے۔