میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی نے کہا کہ بعض علاقوں میں پیٹرول پمپس پر رش کی اطلاعات ضرور موصول ہوئیں، تاہم اس کی بنیادی وجہ قلت نہیں بلکہ عوام کی جانب سے قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے خدشے کے پیش نظر زیادہ مقدار میں پیٹرول خریدنے کی کوشش تھی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس مطلوبہ مقدار میں ذخائر موجود ہیں۔ ترجمان کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی چین مکمل طور پر فعال ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں معمول کے مطابق ترسیل جاری ہے۔
عمران غزنوی نے کہا کہ ابتدائی طور پر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں اور افواہوں کے باعث کچھ شہروں میں افراتفری دیکھنے میں آئی، تاہم اب صورتحال مکمل طور پر معمول پر آ چکی ہے اور عوام میں پھیلنے والی افواہیں دم توڑ چکی ہیں۔
ترجمان اوگرا کے مطابق اتھارٹی کی جانب سے ملک بھر کے پیٹرول پمپس کی سخت مانیٹرنگ کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی مقام پر مصنوعی قلت پیدا نہ ہونے دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ سپلائی میں تسلسل برقرار رہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی پیٹرول پمپ مالک ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت پیدا کرنے یا سرکاری نرخوں سے زائد قیمت وصول کرنے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور اگر کہیں پیٹرول کی قلت، ذخیرہ اندوزی یا زائد قیمت وصول کرنے کی شکایت ہو تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔
اوگرا حکام کا کہنا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے اور عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔







