امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں نئی قیادت کا انتخاب خطے کے امن اور استحکام کے لیے حوصلہ افزا نہیں ہے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ پہلے ہی کشیدگی اور تنازعات کا شکار ہے اور ایسے حالات میں قیادت کے فیصلوں کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی مکمل ہونے کے بعد تہران کے پاس امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے خلاف استعمال کے لیے مؤثر عسکری صلاحیت محدود رہ جائے گی،امریکا اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا خطے میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اسرائیل اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ بھی مختلف امور پر بات چیت ہوئی ہے۔
🚨 ‘I was disappointed to see their choice’ — Trump on Iran’s new Supreme Leader
— Sputnik (@SputnikInt) March 9, 2026
US President Donald Trump said he was disappointed with the election of Mojtaba Khamenei as Iran’s new Supreme Leader. https://t.co/K0BHtbppmu pic.twitter.com/mc8NjyhXya
ان کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے سے متعلق فیصلے مشاورت اور مناسب وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے،جنگ کے خاتمے یا آئندہ اقدامات کے حوالے سے کسی بھی فیصلے سے قبل اتحادی ممالک کے ساتھ مکمل اتفاق رائے ضروری ہے۔
اس سے قبل بھی انہوں نے ایران میں نئی قیادت کے حوالے سے براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا تھا اور مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی کسی حتمی موقف کا اظہار کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ایران کے خلاف جنگ متوقع وقت سے پہلے تقریباً مکمل ہو چکی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
ایران میں قیادت کی تبدیلی اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست، سلامتی اور توانائی کی منڈیوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی آنے والے دنوں میں خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، اس لیے عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔







