پشاور میں میڈیا سے  گفتگو کرتے ہوئے اے این پی رہنما نے کہا کہ ماضی میں پاکستان تحریک انصاف کے بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آئے تو وہ ان کے لیے نجات دہندہ ثابت ہوں گے۔ تاہم بعد میں جب سیاسی حالات تبدیل ہوئے تو انہی حلقوں کی جانب سے ٹرمپ پر تنقید شروع کر دی گئی۔

انہوں  نے کہا کہ اب یہی طرزِ عمل دیگر سیاسی حلقوں میں بھی دیکھا جا رہا ہے اور بعض لوگ اپنے سیاسی مفادات کے تحت عالمی رہنماؤں کو مختلف انداز میں پیش کر رہے ہیں،سیاسی بیانیہ اصولوں کے بجائے مفادات کی بنیاد پر تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے اور دنیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کئی خطوں کو متاثر کر رہی ہے، عالمی طاقتوں کی پالیسیوں اور فیصلوں کے اثرات صرف ان ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا اس سے متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں بعض طاقتور ممالک کے فیصلے عالمی امن کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں،کسی ایک طاقت یا شخصیت کو تمام مسائل کا حل قرار دینا درست طرزِ عمل نہیں۔

انہوں نے عالمی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ادارے کہاں ہیں جو عالمی امن، انصاف اور بین الاقوامی قوانین کے تحفظ کا دعویٰ کرتے ہیں، دنیا میں جاری تنازعات اور جنگی صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: ایران میں ایک روحانی پیشوا شہید ہوا ہے اور ہم خاموش بیٹھے ہیں: محمود خان اچکزئی

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کو مضبوط بنائے تاکہ دنیا کو مزید کشیدگی اور تنازعات سے بچایا جا سکے، اگر عالمی ادارے مؤثر کردار ادا نہ کر سکے تو دنیا میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اے این پی رہنما کا یہ بیان پاکستان کی داخلی سیاست اور عالمی معاملات کے درمیان تعلق پر ایک اہم سیاسی نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں مزید سیاسی ردعمل بھی سامنے آ سکتا ہے۔