کیس کی سماعت جسٹس انعام امین منہاس نے کی، جس دوران درخواست گزار ڈاکٹر عظمیٰ کی جانب سے وکیل عزیر بھنڈاری عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ رجسٹرار آفس کی جانب سے درخواست پر بعض اعتراضات عائد کیے گئے ہیں جنہیں دور کرنے کے لیے عدالت سے مہلت درکار ہے۔

وکیل کی استدعا پر عدالت نے اعتراضات دور کرنے کے لیے مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ رجسٹرار آفس کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کو مقررہ وقت میں واضح کیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ درخواست میں موجود قانونی تقاضوں کو مکمل کیا جانا ضروری ہے تاکہ کیس کی باقاعدہ سماعت ممکن ہو سکے۔

سماعت کے دوران جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو یہ بھی آگاہ کیا جائے کہ اسی نوعیت کی کتنی درخواستیں عدالت میں زیر التوا ہیں۔ انہوں نے رجسٹرار آفس کو ہدایت کی کہ ایسے تمام کیسز کی تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے تاکہ اس حوالے سے مکمل صورتحال واضح ہو سکے۔

وکیل عزیر بھنڈاری نے عدالت سے درخواست کی کہ کیس کو آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کر دیا جائے اور اس دوران رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد تمام اعتراضات دور کر دیے جائیں گے۔ عدالت نے درخواست کو منظور کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔

مزید پڑھیں: 30 سال بعد یوں لگ رہا کے انصاف کا حصول آج جتنا مشکل ہے شاید 1996 میں اتنا مشکل نہیں تھا، بیرسٹرگوہر

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی طبی سہولیات اور اسپتال منتقلی سے متعلق مختلف درخواستیں پہلے بھی عدالتوں میں زیر سماعت رہ چکی ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کی جانب سے رپورٹ طلب کیے جانے کے بعد آئندہ سماعت میں کیس کی پیش رفت کے حوالے سے مزید اہم نکات سامنے آ سکتے ہیں۔