اسرائیل کے نیشنل سائبر ڈائریکٹوریٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے آغاز کے بعد ایرانی ہیکرز کی جانب سے درجنوں نگرانی کے کیمروں کو ہیک کرنے یا ان تک رسائی حاصل کرنے کی کوششوں کا سراغ ملا ہے۔

اسرائیلی سائبر حکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ہیکرز کی جانب سے ملک بھر میں متعدد نجی اور عوامی مقامات پر نصب کیمروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ ادارے کے مطابق سینکڑوں کیمرا مالکان کو خبردار کر دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے پاس ورڈ تبدیل کریں اور سسٹمز کو اپ ڈیٹ کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ سائبر خطرے سے بچا جا سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے نہ صرف انفرادی سطح پر سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں، ہیکرز کی جانب سے حاصل کی گئی معلومات کو مبینہ طور پر حساس مقامات کی نگرانی اور نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی سائبر سیکیورٹی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ جنگی کشیدگی میں اضافے کے بعد نگرانی کے کیمروں کو ہیک کرنے کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، ایسے کیمرے عام طور پر گھروں، دفاتر اور سڑکوں پر استعمال ہوتے ہیں لیکن اکثر ان میں مناسب سیکیورٹی انتظامات نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے انہیں ہیک کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا و اسرائیل نے حملوں میں 10 ہزار شہری مقامات کو نشانہ بنایا: ایران کا دعویٰ

سائبر انٹیلیجنس ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کیمروں سے حاصل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز کو مخصوص علاقوں میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے، نقل و حرکت کی نگرانی کرنے اور ممکنہ اہداف کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق  ان سائبر سرگرمیوں میں ملوث ہیکرز کا تعلق ایرانی ریاستی اداروں سے ہو سکتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان گروپس کو پاسداران انقلاب اور ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس و سیکیورٹی کی جانب سے حمایت حاصل ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان سائبر حملے گزشتہ چند برسوں سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کا اہم پہلو بن چکے ہیں، دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف سائبر جنگ کے مختلف طریقے استعمال کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں اسرائیل کے ایک سابق وزیر اعظم نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر سائبر حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے مبینہ نجی پیغامات اور ویڈیوز انٹرنیٹ پر لیک کر دیے گئے تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے باعث روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ سائبر جنگ کے خطرات بھی بڑھتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مستقبل میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔