نادرا کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، بعض معاملات میں موت کا اندراج تو باضابطہ طور پر کیا جاتا ہے، لیکن قریبی رشتہ دار شناختی کارڈ کی منسوخی کے لیے درخواست نہیں دیتے، جس کے نتیجے میں سول رجسٹریشن کے ریکارڈ اور نادرا کے ڈیٹا بیس میں تضاد پیدا ہوتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ قانونی فریم ورک کے تحت نادرا، صوبائی اور مقامی سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹمز  سے موصول ہونے والی زندگی کے اہم واقعات کی معلومات  پیدائش، موت، شادی اور طلاق کو قومی شہری ڈیٹا بیس میں شامل کر کے اپ ڈیٹ کرتا ہے۔

یہ ریکارڈ مقامی سول رجسٹریشن اتھارٹیز بشمول یونین کونسلز، ٹاؤن کمیٹیوں اور کنٹونمنٹ بورڈز میں رپورٹ اور رجسٹر کیے جاتے ہیں، عام طور پر متعلقہ افراد کے خون کے رشتہ داروں کی طرف سے۔

بیان میں مزید کہا گیاکہ نادرا آرڈیننس 2000 کے سیکشن 7 اور 21 اور نادرا (قومی شناختی کارڈ) رولز 2002 کے رولز 16 اور 17 کے تحت اپنے قانونی مینڈیٹ کی پیروی کرتے ہوئے شہری ڈیٹا کے ریکارڈ کے ساتھ ملک گیر مفاہمت کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدام کر رہا ہے۔ یہ قدم پاکستان کے شناختی نظام کی درستگی اور سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

نادرا کے مطابق 4.2 ملین شناختی کارڈز کی منسوخی ریکارڈ کی مطابقت قائم کرنے کی مشق کا حصہ ہے۔

بیان میں کہا گیاہے کہ قومی ڈیٹا بیس کی سالمیت کی حفاظت اور موت کے بعد فعال رہنے والے شناختی ریکارڈز سے پیدا ہونے والی کسی بھی ممکنہ غلط استعمال یا دھوکہ دہی کی سرگرمی کو روکنے کے لیے، نادرا نے سول رجسٹریشن ریکارڈ کی تصدیق کے بعد ایسے سی این ای سی  کی منسوخی کی کارروائی کی ہے۔

نادرا نے پہلے ہی منسوخی کی فیس معاف کر دی ہے اور بروقت منسوخی کی حوصلہ افزائی کے لیے میت کے کارڈز جمع کرانے کی شرط ختم کر دی ہے۔ اس سہولت کے نتیجے میں تقریباً 30 لاکھ شناختی کارڈز رضاکارانہ طور پر منسوخ کیے گئے۔

تاہم، 4.2 ملین سے زیادہ کارڈز اب بھی فعال تھے، حالانکہ موت کے ریکارڈ سول رجسٹریشن سسٹم میں درج تھے۔ نادرا نے تسلیم کیا کہ شاذ و نادر صورتوں میں موت کی اطلاع کسی رشتہ دار کی غلطی یا دھوکہ دہی کی وجہ سے ہوئی ہو سکتی ہے۔

ایسے معاملات میں اگر کسی شہری کو مردہ کے طور پر نشان زد ہونے کے بعد کارڈ کی منسوخی کی وجہ سے دشواری کا سامنا ہو، تو وہ قریبی نادرا رجسٹریشن سنٹر پر جا سکتے ہیں۔

 بیان کے مطابق، بائیو میٹرک تصدیق کے بعد سی این ای سی فوری طور پر بحال کر دیا جائے گا، اور کوئی فیس بھی نہیں ہوگی۔

نادرا شہری کو اس یونین کونسل، ٹاؤن کمیٹی یا دیگر مقامی اتھارٹی کے بارے میں بھی آگاہ کرے گا جہاں موت کا اندراج ہوا تھا اور رشتہ دار کی تفصیلات بھی فراہم کرے گا جن کی رپورٹ پر موت درج کی گئی تھی۔

مزید برآں، نادرا نے قومی شناختی نظام کے ساتھ پیدائش کے اندراج کے تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے ملک گیر اقدامات شروع کیے ہیں۔اتھارٹی نے تقریباً 14 ملین بچوں کے والدین یا سرپرستوں کو ایس ایم ایس کے ذریعے اطلاع بھیجنا شروع کر دی ہے، جن کی پیدائشیں صوبائی یا مقامی حکومت کے سول رجسٹریشن سسٹم میں درج ہیں لیکن نادرا کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہوئیں۔

بیان میں کہا گیاکہ والدین کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی نادرا کے ساتھ رجسٹریشن مکمل کریں، چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (CRC/B-Forms) حاصل کریں اور اپنے بچوں کو قومی شناختی نظام میں باضابطہ طور پر شامل کریں۔

مزید یہ کہ نادرا جلد ہی اپنے وسیع ای-سہولت فرنچائز نیٹ ورک کے ذریعے CRC/B فارم کے اجراء کی سہولت متعارف کرائے گا، تاکہ بچوں کی رجسٹریشن کی خدمات ملک بھر میں مزید قابل رسائی بنائی جا سکیں۔