وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ اسلاموفوبیا کے تدارک کا عالمی دن دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب، نفرت اور امتیازی رویوں کے خلاف عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی علامت ہے، یہ دن اس عزم کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ عالمی برادری مذہبی آزادی کے تحفظ اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے حقوق کی پاسداری کے لیے متحد ہو۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے اسلاموفوبیا کے خلاف قرارداد کی منظوری ایک اہم پیش رفت ہے، جو دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات، امتیازی سلوک اور تشدد کے واقعات کی حوصلہ شکنی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، بین الاقوامی سطح پر ایسے اقدامات کی اشد ضرورت ہے جو مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیں اور معاشروں میں برداشت اور احترام کی فضا کو مضبوط بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی عدم برداشت اور تعصب نہ صرف انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہیں بلکہ یہ معاشرتی ہم آہنگی اور عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ مہذب معاشرے وہ ہوتے ہیں جہاں عقیدے، نسل یا مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیاز نہ برتا جائے بلکہ سب کو برابر کے حقوق اور احترام حاصل ہو۔

انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے تدارک کا عالمی دن اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کو نفرت انگیز تقاریر، حملوں اور مذہبی تعصب سے محفوظ رکھنے کے لیے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مذہبی منافرت کے خلاف مؤثر قانون سازی اور آگاہی کے ذریعے اس مسئلے کا سدباب کرے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اسلاموفوبیا اور مذہبی تعصب کی ہر شکل کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی تعلیمات اور بین الاقوامی قوانین دونوں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تمام انسان برابر ہیں اور انہیں یکساں حقوق حاصل ہیں۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان نے شہری علاقوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر عبور کی، صدرِ پاکستان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کے خلاف مؤثر آواز اٹھائی ہے اور مستقبل میں بھی اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر مذہبی رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی اور مسلمانوں کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام کے اختتام پر عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ باہمی احترام، برداشت اور انصاف کے اصولوں کو فروغ دے کر ایک ایسا ماحول پیدا کرے جہاں ہر مذہب اور عقیدے سے تعلق رکھنے والے افراد آزادی اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلاموفوبیا کے تدارک کے عالمی دن پر خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔

آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ اسلام امن، ہمدردی اور انصاف کا دین ہے۔ اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی نفرت پھیلانے کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

صدر مملکت نے کہا کہ مذہبی تنوع کے احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ضروری ہے، کرائسٹ چرچ سانحہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا واقعہ تھا، پاکستان اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی فورمز پر مسلسل آواز اٹھاتا رہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی معاشروں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، مسلمانوں کے خلاف تعصب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے تحفظ کو متاثر کرتا ہے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد نیشنل کمیشن قائم کیا جا رہا ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری تعصب کے خاتمے اور مکالمے کے فروغ کے لیے مل کر کام کرے، مذہبی عقائد کا احترام اور مساوی قانونی تحفظ عالمی ذمہ داری ہے۔