سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں انہوں نے لکھا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ایک اسپتال پر حملے کا دعویٰ ان عناصر کی طرف سے کیا جا رہا ہے جو مساجد پر حملے کرتے ہیں، سجدہ ریز نمازیوں کو شہید کرتے ہیں اور نہتے شہریوں، بازاروں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو معصوم بچوں کو نشانہ بناتے ہیں اور جن کی آمدنی کا بڑا ذریعہ منشیات کی اسمگلنگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے محسن کش عناصر اس ریاست پر حملہ آور ہیں جس نے گزشتہ 50 برس سے انہیں پناہ دے رکھی ہے۔
یہ دعویٰ انکی طرف سے آرہا ھے جو مسجدوں پہ حملے کرواتے ھیں ۔ سر بسجود نمازیوں کو شہید کرتے ھیں۔ نہتے شہریوں اور مارکیٹوں سکولوں کو نشانہ بناتے ھیں۔ معصوم بچوں کو خون سے نہلاتے ھیں۔ منشیات کی سمگلنگ جنکا ذریعہ آمدن ھو۔ محسن کش لوگ اس ریاست پہ حملہ آور ھیں جس نے پچاس سال سے انکو… https://t.co/twfeYrdopq
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) March 17, 2026
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ یہ عناصر اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کرتے اور اپنی کمٹمنٹس پوری کرنے کے لیے اربوں روپے کا تاوان طلب کرتے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے نہ صرف انہیں پناہ دی بلکہ ان کے لیے ایک سپر پاور سے بھی ٹکر لیا اور تین نسلوں تک ان کی مہمان نوازی کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی 78 سالہ تاریخ میں بہت غلطیاں کیں، لیکن ان کی مہمان نوازی سب سے بڑی غلطی تھی، اللہ ہمیں معاف کرے۔






