شوال کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے کی۔
اجلاس میں مرکزی کمیٹی کے اراکین کے علاوہ محکمہ موسمیات اور سپارکو کے نمائندے بھی شریک ہوئے، جبکہ اسلام آباد سمیت چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں زونل رویتِ ہلال کمیٹیوں کے اجلاس بھی منعقد کیے گئے۔
مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کو ملک کے مختلف حصوں سے موصول ہونے والی شہادتوں اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا۔
پشاور سے زونل رویتِ ہلال کمیٹی کو چھ شہادتیں موصول ہوئیں، جن میں پانچ ٹیلی فون کے ذریعے جبکہ ایک گواہ کی جانب سے ذاتی طور پر پیش کی گئی۔ تاہم، ان شہادتوں کی تصدیق نہیں ہو سکی، جس کے باعث انہیں قابلِ قبول قرار نہیں دیا گیا۔
دوسری جانب کوئٹہ میں زونل رویتِ ہلال کمیٹی کے اجلاس میں بھی بلوچستان کے کسی علاقے سے چاند نظر آنے کی مصدقہ شہادت موصول نہیں ہوئی۔
مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد اعلان کیا کہ ملک میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، لہٰذا عیدالفطر 21 مارچ کو منائی جائے گی۔







