حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مریم نواز کے لگژری جہاز کو فروخت کرکے اس کی رقم قومی خزانے میں جمع کروائی جائے، جبکہ پنجاب حکومت کی وزراء اور بیوروکریٹس کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری فوری طور پر روک دی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فری بجلی اور فری پیٹرول جیسے اقدامات ختم کرنے سے معیشت مضبوط ہوگی اور وسائل ضائع نہیں ہوں گے۔ امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ 28 دن کے اسٹاک کے باوجود پٹرول 55 روپے مہنگا کرنا سمجھ سے باہر ہے، اور یہ صرف کمپنیوں کے مفاد میں کیا گیا ہے، قومی خزانے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔
مزید یہ کہ انہوں نے لیوی میں اضافے کو بھی ظلم قرار دیا اور کہا کہ غریب اور متوسط طبقہ صرف لیوی کی مد میں 900 ارب روپے ادا کر رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ نے وزراء اور اعلیٰ حکام کی عیاشیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے لیے 11 ارب کا جہاز اور چیئرمین سینیٹ کے لیے 9 کروڑ کی گاڑی خریدی گئی، جبکہ ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں 600 فیصد اضافہ کر دیا گیا۔ اشرافیہ کی یہ عیاشی مزید برداشت سے باہر ہے، اور عوام کا صبر لبریز ہو چکا ہے۔
اس موقع پر سابق ممبر قومی اسمبلی میاں جلیل احمد شرقپوری نے امیر جماعت اسلامی سے منصورہ میں ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور دینی و مذہبی جماعتوں کے اتحاد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں پیر اختر رسول قادری، امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب جاوید احمد قصوری، حافظ غضنفر علی ورک اور اسامہ چوہدری بھی موجود تھے۔






