اس سفارتی پیش رفت کے نتیجے میں 1972 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن کا چین کا تاریخی دورہ ممکن ہوا، جہاں ان کی ملاقات ماؤ زے تنگ سے ہوئی، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی راہیں کھولیں۔
پچاس برس بعد پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتکاری میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان امریکا کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی جنگ بندی تجویز ایران تک پہنچا رہا ہے، جب کہ ترکی اور مصر بھی سفارتی حمایت فراہم کر رہے ہیں۔
امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران پر ممکنہ حملوں کو 10 دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا یہ کردار نیا نہیں بلکہ اس کی سفارتی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ 1980 کی دہائی میں افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان نے جنیوا معاہدہ 1988 میں بھی اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں سوویت افواج کا انخلا ممکن ہوا۔
بعد ازاں 2015 میں پاکستان نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مری میں براہ راست مذاکرات کی میزبانی کی، جب کہ 2020 کے دوحہ معاہدہ میں بھی پس پردہ اہم کردار ادا کیا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور مختلف عالمی و علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات اسے ایک منفرد سفارتی پوزیشن فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان بیک وقت امریکا، چین، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے، جو اسے ایک مؤثر ثالث بناتا ہے۔
سابق سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارتکاری کا بنیادی محور رابطے قائم کرنا، اعتماد سازی اور بالواسطہ مذاکرات کو ممکن بنانا ہے، جو کسی بھی بڑے معاہدے کی بنیاد بنتے ہیں۔
تاہم بعض مواقع پر یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں، جیسے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی متعدد کوششیں، جن میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور عمران خان کی سفارتی کاوشیں شامل ہیں۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے سرگرم ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور عاصم منیر کی قیادت میں اعلیٰ سطحی رابطے جاری ہیں، جب کہ خلیجی ممالک کے ساتھ بھی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ ایران بحران میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے کیونکہ اسے بیک وقت واشنگٹن، تہران اور خلیجی دارالحکومتوں میں اعتماد حاصل ہے، جو خطے میں کسی بھی ممکنہ سفارتی پیش رفت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔







