ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کور ہیڈکوارٹرز پشاور میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کر کرتے ہوئے کہا کہ پریس کانفرنس کا مقصد صوبہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے آغاز میں خیبر پختونخوا کے غیور عوام کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب نے خیبر پختونخوا کے غیور عوام کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افواجِ پاکستان کے تجدیدِ عزم کے لیے آیا ہوں، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے صوبے میں انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 2024 کے بعد خفیہ اطلاعات پر 14 ہزار 535 آپریشنز کیے گئے۔ یومیہ بنیاد پر کیے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی تعداد 40 بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2024 میں آپریشنز کے دوران 769 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جن کی یومیہ تعداد دو بنتی ہے۔ ان آپریشنز کے دوران 577 قیمتی جانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جن میں پاک فوج کے 272 بہادر افسران و جوان، پولیس کے 140 جب کہ 165 معصوم پاکستانی شہری شامل ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں 2025 کے دوران 15 ستمبر تک 10 ہزار 115 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جا چکے ہیں، جن کی یومیہ تعداد 40 بنتی ہے، جن میں 917 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے، جن کی یومیہ تین بنتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال خیبر پختونخوا میں آپریشنز کے دوران 516 قیمتی جانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جن میں پاک فوج کے 311 افسران و جوان، پولیس کے 73 اہلکار اور 132 معصوم شہری شامل ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ گزشتہ 10 سالوں میں آپریشنز کے دوران جہنم واصل ہونے والے خارجیوں کی تعداد کا موازنہ کیا جائے تو ایک سال میں مارے گئے خارجیوں کی تعداد گزشتہ 10 سالوں میں مارے گئے خارجیوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے، اسی طرح گزشتہ سال مارے گئے خارجیوں کی تعداد اس سے گزشتہ 9 سالوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ تھی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ 2016 سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنا شروع کیا اور ایک پر امن خیبر پختونخوا کے خواب کی تکمیل کے قریب پہنچ گئے۔

انہوں نے کہا کہ مگر بدقسمتی سے خیبر پختونخوا میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو اسپیس دی گئی، یہاں گورننس اور عوامی فلاح وبہبود کو جان بوجھ کر کمزور کیا گیا، جس کا خمیازہ آج تک خیبر پختونخوا کے بہادر اور غیور عوام اپنے خون اور اپنی قربانیوں کے ذریعے بھگت رہے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ان عوامل کو جاننا ضروری ہے جن کی وجہ سے آج دہشت گردی موجود ہے، انہوں نے دہشت گردی ختم نہ ہونے کی پانچ بنیادی وجوہات بھی بیان کیں۔ جن میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہ کرنا۔ دہشت گردی کے معاملے پر سیاست کرنا اور قوم کو اس سیاست میں الجھانا۔

اس کے علاوہ انڈیا کا افغانستان کو دہشت گردی کے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنا۔ افغانستان میں دہشت گردوں کو جدید ہتھیاروں اور پناہ گاہوں کی دستیابی اور مقامی اور سیاسی پشت پناہی کا حامل دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کا گٹھ جوڑ شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف 2024 اور 2025 میں پاکستان میں جہنم واصل کیے جانے والے افغانیوں کی تعداد 161 بنتی ہے، اس کے علاوہ افغانستان کی سرحد سے دخل اندازی کرتے ہوئے 135 خارجی مارے گئے جب کہ دو سال میں خود کش حملے کرنے والے 30 حملہ آور میں افغان شہری تھے، یہ اعداد و شمار افغانستان کو انڈیا کے دہشت گردی کے بیس کیمپ کے طور پر عیاں کرتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے گٹھ جوڑ مکمل مقامی اور سیاسی پشت پناہی حاصل ہے۔

ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ 2014 میں سانحہ اے پی ایس کے بعد تمام سیاسی جماعتیں، وفاقی اور صوبائی حکومتیں پشاور میں بیٹھیں اور ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کیا، جسے نیشنل ایکشن پلان کا نام دیا گیا اور تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا کہ اگر دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنا ہے تو ان نکات پر کام کرنا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ 2021 میں پچھلی صوبائی حکومت نے جن نکات پر کام ہوچکا تھا انہیں خارج کر کے 14 نکات پر مشتمل نظرثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا اور تمام سیاسی عمائدین، تمام سیاسی جماعتوں اور اس وقت کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے فیصلہ کیا کہ اگر دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنا ہے تو ان 14 نکات پر کام کرنا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بھی اسی ایکشن پلان کو وژنِ عزمِ استحکام کا نام دیا، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی اولین وجہ یہ ہے کہ ان نکات پر عمل نہیں ہو رہا۔

انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایکشن پلان کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کو مارنا ہے، صرف یہی ایک نکتہ زمینی کارروائیوں سے تعلق رکھتا ہے، کیا اس پر کام ہو رہا ہے کہ نہیں ہو رہا، صرف خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی ایجنسیاں یومیہ 40 سے زیادہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کر رہی ہیں کہ نہیں کر رہی ہیں، اس سال ہم نے نو سو سے زائد دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا؟ کیا ہمارے شہدا اس بات کی گواہی نہیں دے رہے کہ پہلے نکتے پر کام ہو رہا ہے اور بالکل ہو رہا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ باقی 13 نکات کا بھی احاطہ کر لیا جائے کہ ان پر کیا کام ہو رہا ہے، انہوں نے کہا کہ دوسرا نکتہ تھا کہ میڈیا، سوشل میڈیا اور سیاستدان یک زبان ہو کر دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہوں گے، یہ ہم نے نہیں کہا، تمام سیاسی عمائدین اور سیاسی جماعتیں 2014 سے اس بات پر متفق ہیں، کیا ہم اس بیانیے پر کھڑے ہیں؟

ترجمان پاک فوج نے سوال کیا کہ کیا آپ کو یہ آواز نہیں آتی کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کر لیے جائیں، کیا ہم اس نیشنل ایکشن پلان پر عمل کر رہے ہیں؟ کیا ہر مسئلے کا حل بات چیت ہے؟ اگر حل مسئلے کا حل بات چیت میں ہے تو جب چھ اور سات مئی کو انڈیا نے پاکستان پر میزائل مارے، معصوم بچوں، خواتین، مدرسوں اور مساجد کو شہید کیا تو اس ملک کے عوام نے یہ کیوں نہیں کہا کہ اگلے دن بات چیت کر لیتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ اگر ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہوتا تو نہ کوئی غزوہ ہوتی، نہ جنگیں ہوتیں اور نہ مہمات ہوتیں، اگر مسئلے کا حل بات چیت میں ہوتا تو بدر کے میدان کو یاد کریں کہ سرورِ کونین ﷺ جن کے لیے دو جہان بنائے گئے، وہ ذات جس سے بڑھ کر کوئی انسان نہیں، انہوںؐ نے اس دن کیوں بات چیت نہیں کر لی؟ ادھر تو باپ کے بیٹے، بھائی کے آگے بھائی، قریشی کے آگے قریشی اور اموی کے آگے اموی کھڑے تھے، کیوں نہیں بات چیت کر لی؟

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ آپ کے عمائدین نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم بیانیہ بنائیں گے مگر گمراہ کن بیانیہ بنایا جاتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے نہیں، ہمارے سیاستدانوں، تمام صوبائی حکومتوں نے کہا کہ اگر دہشت گردی کو ختم کرنا ہے تو دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو توڑنا ہوگا، غیرقانونی کاروباروں، منشیات، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے ناسور سے اپنے خطے کو پاک کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے ان ناسوروں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو ان عناصر کی پشت پناہی کے لیے مختلف سیاسی اور مقامی سطح سے آوازیں آتی ہیں، فیصلہ تو آپ نے کیا تھا کہ اس کو ختم کیے بغیر دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی۔

ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اس ملک کے سیاستدانوں اور سیاسی حکومتوں نے فیصلہ کیا کہ دہشت گردی کے مقدمات کے لیے اپنے عدالتی نظام کو مضبوط کرنا ہے لیکن ابھی ہم کہاں کھڑے ہیں کہ اگست 2025 میں خیبر پختونخوا کی انسدادِ دہشت گردی عدالتوں سے کسی دہشت گرد کو سزا نہیں ہوئی، 34 مقدمات زیر التوا ہیں، دو ہزار آٹھ سو زائد زیرالتوا مقدمات تین سال سے کم عرصے جب کہ 17 سو مقدمات کو تین سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے۔

دہشت گردی اور غیرقانونی کاروبار کے گٹھ جوڑ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کے دس ہزار سے زائد کیسز میں سے صرف 679 مجرموں کو سزا ہوئی جب کہ غیرقانونی ہتھیاروں کے 33 ہزار سے زائد مقدمات میں صرف چھ ہزار نو سو مجرموں کو سزا ہوئی، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عدالتی مہم کی یہ صورتحال ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ 2014 اور 2021 میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں دہشت گردی کو ختم کرنا ہے تو محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو مضبوط کرنا ہے مگر اس وقت سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا کی آپریشنل صلاحیت 32 سو ہے، دہشت گردی آپ کے سامنے ہے، کیا یہ تعداد کافی ہے؟

انہوں نے کہا کہ ہم خیبر پختونخوا کی بہادر پولیس اور سی ٹی ڈی کو سلام پیش کرتے ہیں، مگر ان کی تعداد صرف 32 سو ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں صوبہ بھر میں موجود اٹھ ہزار سے زائد مدارس کے اندراج کا فیصلہ ہوا تھا مگر ہم اب تک صوبے میں تقریباً چار ہزار تین سو، یعنی 55 فیصد مدارس کا اندراج کروا سکے ہیں، ابھی اندراج ہی مکمل نہیں ہوا تو نصاب ایک کرنا اور اس پر نگرانی کرنا تو الگ بات ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اگر سوال یہ ہے کہ دہشت گردی ختم کیوں نہیں ہو رہی تو ان سوالات کا جواب بھی دینا ہوگا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ 2014 اور پھر 2021 میں بھی یہ فیصلہ کیا گیا کہ افغانوں کو واپس بھیجنا ہے، تو آج یہ بیانیہ کہاں سے آیا کہ ان کو واپس نہیں بھیجنا؟

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آپ 2014 اور 2021 میں غلط تھے؟ اور جب افغانستان میں امن آ چکا ہے اور وہاں کوئی قابض فوج نہیں ہے، تو کئی دہائیوں تک افغان بھائی کی مہمان نوازی کرنے والی ریاست انہیں واپس جانے کا کہتی ہے تو اس پر سیاست کی جاتی ہے، اس پر بیانیے بنائے جاتے ہیں اور گمراہ کن باتیں کی جاتی ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دوحہ معاہدے پر کہا گیا تھا کہ افغان سرزمین نہ صرف امریکا بلکہ خطے میں بھی کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، مگر آپ کے سامنے اعداد و شمار رکھے ہیں کہ کتنے افغان تشکیلات میں آتے ہیں، کتنے ہم نے ختم کیے اور کتنے افغان خودکش حملوں میں شامل ہیں، تو پھر کیسے افغان سرزمین خوارج اور دہشت گردوں کے لیے بیس کیمپ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ امریکا افغانستان سے گیا تو اس کا چھوڑا ہوا اسلحہ بڑی تعداد میں خوارج کے پاس گیا، امریکا کی اپنی "سیگار" کی 2024 کی رپورٹ کہتی ہے کہ امریکی فوج سات ارب ڈالرز سے زائد مالیت کے ہتھیار افغانستان چھوڑ کر گئی۔

ترجمان پاک فوج نے خیبر پختونخوا میں آپریشنز کے دوران مارے گئے خارجیوں سے برآمد امریکی ہتھیاروں کی تصاویر بھی دکھائیں۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے تین ماہ میں دہشت گردی کے 3,984 واقعات پیش آئے، ان میں سے 70 فیصد خیبر پختونخوا میں کیوں پیش آئے؟ یہ بڑا منطقی سوال ہے، دہشت گردی کے یہ واقعات پنجاب اور سندھ میں کیوں نظر نہیں آتے؟

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سندھ اور پنجاب میں دہشت گردی نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ دہشت گرد ان صوبوں میں کام نہیں کرنا چاہتے اور اپنے نظریات وہاں ترویج نہیں کرنا چاہتے، نہیں، اس کی قطعی یہ وجہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان صوبوں میں گورننس قائم ہے، وہاں کی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قائم ہیں اور وہاں پر سیاست اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ کام نہیں کر رہا، صرف یہی وجہ ہے، جب کہ ہمارے اس عظیم صوبے میں بجائے اس کے کہ دہشت گردی کو کارکردگی، گورننس اور قانون کی عملداری سے ختم کیا جائے، اسے صوبائیت کا رنگ دیا جا رہا ہے اور اس پر سیاست کی جا رہی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سوال کیا کہ کیا یہ بذاتِ خود ایک مجرمانہ عمل نہیں ہے؟ کہ گورننس، کارکردگی، صلاحیت اور استعداد کار اور سی ٹی ڈی کو بڑھانے اور عدالتی نظام کو مضبوط بنانے اور غیرقانونی مقیم افغانوں کو واپس افغانستان بھیجنے کے بجائے ایک کنفیوژن اور ابہام پیدا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ انہی وجوہات کی بنیاد پر آرمی چیف واضح طور پر کہہ چکے ہیں، گورننس کے خلا کو پاک فوج کے افسران، جوان، پولیس کے افسر اور جوان، بچے اور ہمارے ادارے اپنے خون سے پُر کر رہے ہیں، حکومتی خلا کو پاکستان اور خیبر پختونخوا کے عوام روزانہ اپنے خون سے پُر کر رہے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے سوال کیا کہ اگر گورننس کے خلا کو پُر نہیں کرنا اور متفقہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کرنا تو پھر خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے ناسور سے کیسے چھٹکارا ملے گا؟

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ ریاستِ پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کے حوالے سے جو جھوٹا، فرضی اور من گھڑت بیانیہ بنایا جا رہا ہے اور شہدا اور افواجِ پاکستان اور پولیس کی قربانیوں کی جو تضحیک کی جاتی ہے، یہ سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ کے مزموم عزائم کی عکاسی کرتا ہے، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے یہی سیاسی و مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستانی عوام کی سیکیورٹی کسی دوسرے ملک، بالخصوص افغانستان، کو رہن نہیں رکھی جا سکتی، صرف ریاست، افواجِ پاکستان اور اس کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی پاکستان کے عوام کی سلامتی کے ضامن ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ افواج پاکستان اور اس کے اداروں کو کسی سیاسی شعبدہ بازی سے پریشان نہیں کیا جا سکتا، ریاستِ پاکستان اور اس کے عوام کو کسی فرد واحد کی خواہش کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ کسی فرد واحد کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنی ذات اور اپنے مفاد کے لیے پاکستان اور خیبر پختونخوا کے غیور اور باعزت عوام کے جان، مال اور عزت و آبرو کا سودا کرے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان آئین اور قانون کے مطابق خیبر پختونخوا میں داخلی سلامتی کے فرائض انجام دے رہی ہیں، جس کی بنیادی ذمہ داری صوبائی اور مقامی انتظامیہ کی ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ بجائے منفی سیاست، الزام تراشی اور خارجہ جرائم پیشہ مافیا کی سہولت کاری کے بجائے آپ اپنی اس بنیادی ذمہ داری پر توجہ دیں گے۔

ان سے جب افغان قیادت سے بات چیت کا سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ آپ خیبر پختونخوا کے غیور عوام کی حفاظت کے لیے افغانستان سے سیکیورٹی کی بھیک مانگنے کے بجائے اس صوبے کے ذمہ داران ہوتے ہوئے خود اس کی حفاظت کریں گے جو نہ صرف خیبر پختونخوا کے عوام کا حق ہے بلکہ آپ کا فرض ہے۔

ترجمان نے کہا کہ افواجِ پاکستان یہ بات بھی واضح کرنا چاہتی ہیں کہ خارجی دہشت گرد اور ان کے سہولت کار چاہے وہ کوئی بھی ہو اور کسی بھی عہدے پر ہو، اس کے لیے زمین تنگ کردی جائے گی کیونکہ پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار "بنیانِ مرصوص" کی طرح دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کھڑی ہے اور ان شاءاللہ کھڑی رہے گی، اور ہمارے شہدا کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اب اسٹیٹس کو نہیں چلے گا، جو شخص یا گروہ اپنی مجبوری یا کسی فائدے کی وجہ سے خارجیوں کی سہولت کاری کررہا ہے اس کے پاس تین راستے ہیں، اول کہ وہ خود ان خارجیوں کو ریاست کے حوالے کردے، یا پھر وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ریاست کے اداروں کے ساتھ مل کر اس ناسور کو اپنے انجام تک پہنچائے تاکہ معصوم عوام کو نقصان نہ ہو۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر یہ دونوں کام نہیں کیے گئے تو پھر خارجیوں کے سہولت کار ریاست پاکستان کے بھرپور ایکشن کے لیے تیار رہیں۔

ترجمان پاک فوج نے صوبے کے شہدا کی تصاویر دکھاتے ہوئے رندھائی ہوئی آواز میں کہا کہ یہ اس دھرتی کے وہ بہادر ہیں جنہوں نے آپ کے لیے جان دی ہے، ان کی شہادتوں اور قربانیوں پر کسی کو سیاست کی اجازت نہیں دی جا سکتی، انہوں نے کہا کہ پاکستان زندہ باد رہے گا اور خیبر پختونخوا زندہ باد رہے گا، اس حقیقت کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔

انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مقامی جرائم، غیرقانونی کاروبار اور دہشت گرد عناصر کے ساتھ مقامی و سیاسی پشت پناہی کو ختم کرنا ناگزیر ہے۔

آخر میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے عوام اور سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ نیشنل ایکشن پلان پر بلاامتیاز عملدرآمد کیا جائے تاکہ خیبرپختونخوا اور پورے ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔