خیبرپختونخواہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے بتایا کہ قاسم خان کی گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا گیا ہے اور یہ صرف ایک بیٹے کے اپنے باپ کے لیے جذبات کا اظہار تھا، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک بیٹے کو اپنے باپ کے لیے جو تشویش ہوتی ہے، اس کا یہ اظہار تھا۔ اس گفتگو کو جی ایس پی پلس کے معاہدے کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ جی ایس پی پلس کے معاہدے کی خلاف ورزی وفاقی حکومت خود کر رہی ہے۔ اگر ہماری صنعتیں مکمل طور پر کام کر رہی ہوتیں تو تجارتی خسارہ کم ہوتا۔ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے کسان، طالب علم اور ہر فرد مشکلات کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی آنکھ میں بھی تکلیف ہے اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔ ہمارے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ناحق قید میں رکھا گیا ہے اوپر سے قید تنہائی اور علاج کے بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔

سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر ماحولیاتی تحفظ کی خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا میں عمران خان کے وژن کے مطابق درخت لگائے جا رہے ہیں، جب کہ پاکستان میں جنگلات کا 45 فیصد حصہ اسی صوبے میں ہے۔ صوبے کا کل رقبہ 26.5 فیصد جنگلات پر مشتمل ہے اور اسے مزید بڑھایا جا رہا ہے، لیکن جعلی وفاقی حکومت اور اس کے کارندے اپنے کاروباری مفاد کے لیے درخت کاٹ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں آزادی صحافت اور انسانی حقوق کی صورتحال بھی انتہائی خراب ہے۔ صحافیوں کے ساتھ تشدد، اغواء اور ملک بدر کرنے کے اقدامات دنیا کے سامنے ہیں۔ ارشد شریف کو شہید کیا گیا، صحافیوں کو اغواء، تشدد اور ان کی ملازمتیں ختم کی گئیں۔ یہ سب بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کو جی ایس پی پلس سے نکالا جاتا ہے تو اس کے ذمہ دار وفاقی حکومت کے اقدامات ہوں گے، نہ کہ صوبائی سطح کے افسران۔