فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ کارروائیاں دہشتگردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کی گئیں۔ خیبر ضلع کے علاقے باڑہ میں کیے گئے آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا، جہاں فائرنگ کے تبادلے میں 10 افراد ہلاک ہوئے۔

اسی طرح بنوں میں ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 3 شدت پسند مارے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے بعد علاقے میں مزید ممکنہ خطرات کے خاتمے کے لیے سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔

فوج کے مطابق ملک میں غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خلاف جاری مہم کے تحت ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

حالیہ برسوں میں افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی جانب سے مختلف عسکری کارروائیاں کی گئی ہیں، جن میں متعدد شدت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے سامنے آئے ہیں۔

سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے باعث اکتوبر 2025 میں بھی جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جن میں دونوں جانب جانی نقصان ہوا تھا۔ حکام کے مطابق سرحدی سلامتی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری ہیں، جبکہ اس حوالے سے سفارتی سطح پر بھی رابطے کیے جاتے رہے ہیں۔