پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا، جہاں 100 انڈیکس میں 7,461 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 156,204 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اسی دوران KSE-30 انڈیکس 2,390 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 47,422 پر بند ہوا۔
اس موقع پر 30 انڈیکس میں کاروبار کے دوران 5.02 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد مارکیٹ میں ہنگامی معطلی کی کارروائی کے تحت کاروبار تقریباً 45 منٹ کے لیے بند کر دیا گیا اور بعد میں دوبارہ ایک بج کر 9 منٹ پر کھولا گیا۔
امریکی صدر کے اعلان کے اثرات عالمی سطح پر بھی واضح ہوئے۔ نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں ڈاؤ جونز گزشتہ روز 2.49 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا، جبکہ ایشیا کی مارکیٹس میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا۔ جاپان کے نکئی انڈیکس میں 9 فیصد اضافہ ہوا، ہانگ سینگ اور نفٹی ففٹی میں بھی مضبوطی دیکھی گئی، اور یورپی مارکیٹس نے بھی بڑھتے ہوئے رجحان کا مظاہرہ کیا۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے امکانات اور خطے میں کشیدگی میں کمی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹوں میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے، اس طرح کے عالمی سیاسی فیصلے مارکیٹوں پر فوری اثر ڈال سکتے ہیں اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: معاہدہ ہو نہ ہو، ایران سے ’بہت جلد‘ نکل جائیں گے، آج رات اہم خطاب کروں گا: ڈونلڈ ٹرمپ
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے کے بعد مقامی سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری میں اضافہ دیکھا گیا۔ مارکیٹ ماہرین نے کہا کہ اگر عالمی سیاسی حالات استحکام اختیار کریں تو پاکستان کی مارکیٹ مزید تیزی کی جانب جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ایران جنگ سے امریکا کے نکلنے کے اعلان نے نہ صرف خطے میں سیاسی تناؤ کم کیا بلکہ عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے لیے ایک مثبت ماحول پیدا کیا ہے، جس کے اثرات عالمی اور مقامی مارکیٹس میں فوری طور پر ظاہر ہوئے۔







