سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کل رات تک وہ بہت پُرامید تھے، مگر حالیہ خطرناک پیش رفت نے حالات کو ایک بار پھر کشیدہ بنا دیا۔ عین اس وقت جب دونوں فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے قریب تھے، اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، جس کے بعد ایران نے سعودی عرب کے شہر جبیل میں آئل تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس صورتحال نے امن عمل کو شدید نقصان پہنچایا۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان وہ واحد مسلم ملک ہے جس نے ایران پر حملے کی کھل کر مذمت کی۔ جب امریکا کی جانب سے ایران پر حملہ ہوا تو وہ سعودی عرب میں موجود تھے اور انہوں نے مدینہ منورہ سے ہی ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ کر کے پاکستان کا مؤقف پہنچایا۔

وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان نے فوری طور پر خطے کے تمام اہم ممالک سے رابطے کا فیصلہ کیا اور جنگ بندی کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ فریقین نے پاکستان کی ثالثی کو قبول کیا اور اسلام آباد میں مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔ پاکستان کو کسی تمغے یا کریڈٹ کی خواہش نہیں بلکہ مقصد صرف خطے میں امن کا قیام ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس حوالے سے بھرپور کوششیں کیں، جبکہ انہوں نے خود بھی بطور وزیر خارجہ فعال کردار ادا کیا۔

اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ پاکستان نے امریکا کی 15 نکاتی شرائط ایران تک پہنچائیں، جب کہ ایران کی 5 نکاتی تجاویز امریکا کو منتقل کیں، جس کے نتیجے میں جنگ بندی کے امکانات روشن ہوئے اور پیش رفت بھی سامنے آئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ بھی امن ایجنڈے پر مشاورت کی ہے اور عالمی برادری، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایک منفرد مقام دیا ہے اور پاکستان اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔