سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس دانشمندانہ پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہیں اور دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین کے وفود کو 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں مدعو کیا گیا ہے تاکہ تمام تنازعات کے مستقل حل کے لیے مزید مذاکرات کیے جا سکیں۔
شہباز شریف نے كہا ہے كہ دونوں جانب سے غیر معمولی تدبر اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا گیا اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے مثبت انداز میں رابطہ رکھا گیا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن کے قیام میں کامیاب ہوں گے اور آئندہ دنوں میں مزید خوشخبریاں سامنے آئیں گی۔
واضح رہے كہ امریكی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران پر مجوزہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کر دیا جائے گا، بشرطیکہ تہران آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور محفوظ طور پر کھولنے پر رضامند ہو جائے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ یہ فیصلہ وزیرِاعظم پاكستان شہباز شریف اور عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا، جنہوں نے ایران کے خلاف فوری فوجی کارروائی روکنے کی درخواست کی تھی۔
انہوں نے كہا كہ اگر ایران اس شرط کو قبول کر لیتا ہے تو یہ دو طرفہ جنگ بندی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے کے لیے پیش رفت ہو رہی ہے۔
🚨 President Donald J. Trump makes a statement on Iran: pic.twitter.com/9mqTayL0Q3
— The White House (@WhiteHouse) April 7, 2026
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔
انہوں نے كہا ہے كہ دونوں ممالک کے درمیان ماضی کے بیشتر تنازعاتی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم دو ہفتوں کا وقفہ حتمی معاہدے کو مکمل کرنے میں مدد دے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہ صرف امریکا بلکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے اس دیرینہ مسئلے کے حل کے قریب پہنچنے کو اعزاز سمجھتے ہیں اور امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت خطے میں پائیدار امن کا باعث بنے گی۔







