قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسپیکر نبیہ بری نے لبنان میں پاکستان کے سفیر سلمان اطہر کے ساتھ فون کال کے دوران اپنے خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور امریکا ایران کے درمیان طے شدہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری میں ناکام رہے ہیں اور خاص طور پر جنوبی لبنان میں جارحیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے علاقائی کشیدگی میں کمی کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کی بھی تعریف کی۔
BREAKING: Lebanon s Parliament Speaker Berri urges Pakistani ambassador to press Israel over ceasefire violations
— Al Jazeera Breaking News (@AJENews) April 8, 2026
🔴 LIVE updates: https://t.co/zygwIgJdmZ pic.twitter.com/DvX7zqHDim
لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام نے اسرائیلی فضائی حملوں کی بڑی لہر کے بعد تمام دوست ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائی کو روکنے میں مدد کریں۔ ایکس پر بیان میں وزیرِ اعظم سلام نے کہا کہ اسرائیل اپنی جارحیت کا دائرہ مسلسل وسیع کر رہا ہے، گنجان آباد علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور لبنان کے مختلف حصوں میں نہتے شہری اپنی جانیں گنوا رہے ہیں، خاص طور پر دارالحکومت بیروت میں۔
ان کی یہ اپیل اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے بیان کے بعد سامنے آئی جس میں کہا گیا کہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے بعد آج لبنان بھر میں سب سے بڑے حملے کیے گئے ہیں۔
نواف سلام نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے بین الاقوامی قانون کے لیے مکمل بے اعتنائی ظاہر ہوتی ہے اور لبنان کے تمام دوستوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جارحیت کو روکنے کے لیے ہر دستیاب ذریعے سے مدد کریں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ چند دنوں میں جنگ کے فوری اور دیرپا خاتمے کے لیے مذاکرات کیے جائیں اور یہ صرف سفارتی ذرائع سے ممکن ہے۔ ہم مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے حل کی تیز پیش رفت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، کیونکہ یہ ایران کی شہری آبادی کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔
في حين رحّبنا بالاتفاق بين إيران والولايات المتحدة الأميركية، وكثّفنا جهودنا للتوصّل إلى اتفاق لوقف إطلاق النار في لبنان، تواصل إسرائيل توسيع اعتداءاتها التي طالت أحياء سكنية مكتظّة، وراح ضحيتها مدنيون عزّل، في مختلف أنحاء لبنان، ولا سيّما في العاصمة بيروت، غير آبهة بكل المساعي…
— Nawaf Salam نواف سلام (@nawafsalam) April 8, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا، تاہم اسرائیلی افواج نے بدھ کے روز جنوبی لبنان میں متعدد فضائی حملے کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل لبنان کو جنگ بندی کا حصہ نہیں سمجھتا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے دعوے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں یہ معاہدہ اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپ حزب اللہ کے جاری تنازع کو شامل نہیں کرتا۔
دریں اثناء لبنان کے صدر جوزف عون نے جنگ بندی کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ لبنان ایک وسیع تر علاقائی جنگ بندی میں شامل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بیروت پائیدار امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
بیری نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ لبنان جنگ بندی کے فریم ورک کا حصہ ہے اور لبنانی حکام اسرائیل کی مبینہ خلاف ورزیوں کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہیں، اسلام آباد سے درخواست کی کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے واشنگٹن کو شامل کرے۔
یاد رہے کہ جاری تنازعہ نے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کم از کم 1500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 130 بچے شامل ہیں اور تقریباً 1.2 ملین لوگ بنیادی طور پر جنوبی لبنان سے بے گھر ہو چکے ہیں۔







