اجلاس کے دوران وزیر داخلہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ غیر ملکی وفود کی سکیورٹی اور مہمان نوازی کے لیے تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے مذاکرات کا انعقاد پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی اعزاز ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کیا جائے گا اور صرف مجاز افراد کو ہی داخلے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ وزارت داخلہ میں ایک خصوصی کنٹرول روم بھی قائم کر دیا گیا ہے تاکہ تمام امور کی نگرانی کی جا سکے۔
اجلاس میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد پولیس، کمشنر راولپنڈی، ڈی جی ایف آئی اے، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، رینجرز، فیڈرل کانسٹیبلری اور وزارت خارجہ کے حکام نے شرکت کی اور سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔
ادھر حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی شرائط اور مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق خدشات کے باوجود صورتحال قابو میں ہے۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطحی مشاورت میں اس اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ حالات اب مستحکم ہیں اور مذاکرات کے انعقاد میں کوئی بڑی رکاوٹ درپیش نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں ان اہم مذاکرات کے لیے واشنگٹن اور تہران سے اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد متوقع ہے، جبکہ پاکستان خود کو ایک مؤثر سفارتی پل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی معاونت سے ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کو بعض چیلنجز درپیش رہے، جن میں لبنان سے متعلق معاملات اور ممکنہ خلاف ورزیاں شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض عناصر، خصوصاً اسرائیل، اس عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم پاکستانی حکام کی توجہ مذاکرات کی کامیابی پر مرکوز ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایسے حساس معاہدوں میں وقتی پیچیدگیاں غیر معمولی نہیں ہوتیں اور یہ مجموعی امن عمل کو متاثر نہیں کریں گی۔
اہم سفارتی شخصیات اس عمل کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور غیر ضروری تفصیلات کو منظرعام پر لانے سے گریز کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا بیرونی مداخلت سے بچا جا سکے۔
ان مذاکرات میں عالمی سطح کی اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے، جن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹیکوف، سابق مشیر جیریڈ کشنر، ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان رہنماؤں کی موجودگی اس عمل کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے اور ممکن ہے کہ اس کے ذریعے خطے میں امن کی نئی راہیں کھلیں۔
Pakistan welcomes all delegates including journalists from participating nations, traveling in relation to Islamabad Talks 2026. To this end, all airlines are requested to permit boarding to all such individuals without Visa. Immigration authorities in Pakistan will issue them… pic.twitter.com/mvWJyv2P4s
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) April 10, 2026
دوسری جانب پاکستان نے اسلام آباد مذاکرات 2026 میں شرکت کے لیے آنے والے غیر ملکی وفود، صحافیوں اور متعلقہ افراد کو ویزا آن ارائیول دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق اس اقدام کا مقصد غیر ملکی شرکاء کو سہولت فراہم کرنا اور سفری رکاوٹوں کو کم کرنا ہے۔
اس سلسلے میں ایئرلائنز کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ مسافروں کو بغیر پیشگی ویزا کے سفر کی اجازت دیں، جبکہ پاکستانی امیگریشن حکام ایئرپورٹس پر ویزا آن ارائیول جاری کریں گے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق اس مقصد کے لیے ایئرپورٹس پر خصوصی سہولت ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کو خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور عالمی توجہ اس وقت پاکستان کے دارالحکومت پر مرکوز ہے۔







