دنیا بھر کی نظریں آج اسلام آباد پر مرکوز ہیں جہاں پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان اہم سفارتی مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے، جنہیں خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اہم موقع پر لمحہ بہ لمحہ کوریج کے لیے دارالحکومت میں خصوصی میڈیا حب بھی قائم کر دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر شہر کے مختلف اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی کو محدود کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد ایکسپریس ہائی وے اور سری نگر ہائی وے پر متعدد مقامات پر ڈائیورشنز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ ایکسپریس ہائی وے پر پبلک ٹرانسپورٹ کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق کشمیر چوک سے زیرو پوائنٹ تک سری نگر ہائی وے، زیرو پوائنٹ سے سرینا چوک، شکر پڑیاں روڈ، جناح ایونیو، اور فیصل چوک سے ٹریل 3 تک مارگلہ روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ریڈ زون اور اس کے توسیعی علاقے میں بھی مکمل داخلہ بند ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ ٹرانسپورٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بس اسٹاپس یا لوپس پر گاڑیاں کھڑی نہ کریں تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہری تازہ ترین ٹریفک صورتحال سے آگاہی کے لیے اسلام آباد ٹریفک پولیس کے واٹس ایپ چینل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے رہنمائی حاصل کریں۔







