انہوں نے کہا کہ امریکہ چند طاقتور ہاتھوں میں یرغمال ہے اور صیہونی قوتوں اور ارب پتی طبقے نے اس پر اثر و رسوخ قائم کر رکھا ہے۔ انہوں نے امریکی جوہری پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب ایران پر پابندیوں کی بات کی جاتی ہے جبکہ خود امریکہ کے پاس ہزاروں نیوکلیئر ہتھیار موجود ہیں۔

معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی عوام کے ساتھ ناانصافی ہے اور حکومت کو کم از کم 200 روپے فی لیٹر کمی کرنی چاہیے۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایک لیٹر پٹرول پر بھاری ٹیکس عائد کر کے غریب عوام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

ٹیکس نظام پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں طالبعلم سے لے کر مزدور تک ٹیکس دے رہا ہے جبکہ بڑے طبقے کو مراعات حاصل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت متوسط طبقے کو نشانہ بنا رہی ہے اور امیر و غریب کے لیے الگ الگ نظام انصاف قائم ہے۔

انہوں نے توانائی کے شعبے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کراچی پورٹ پر گیس کے معاہدے عوامی مفاد کے خلاف ہیں اور آئی پی پیز کی طرز پر کیے گئے ہیں، جبکہ ایسے پلانٹس عوام پر بوجھ بنے ہوئے ہیں جو گیس پیدا ہی نہیں کرتے۔ ان کے مطابق حکمران اپنے مفادات کے لیے ایسے معاہدے کرتے ہیں جن کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔

پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کی نجکاری اور اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ عوام کے ساتھ دھوکہ ہے، جسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے اشتہاری مہمات چلائی جا رہی ہیں اور صحت کے بنیادی مراکز کو بھی نجی شعبے کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کو ملکی بجٹ کا بڑا حصہ ملتا ہے، اس کے باوجود یہ واضح نہیں کہ یہ وسائل کہاں خرچ ہو رہے ہیں، جبکہ سندھ اور بلوچستان سے بھی مکمل حساب لیا جانا چاہیے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ جنگی ماحول میں مذاکرات کے ذریعے پاکستان کا عالمی امیج بہتر ہوا ہے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے، تاہم بعض سیاسی جماعتیں جمہوریت کے نام پر نظام کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔