آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اسپرنگ اجلاس 2026 کے موقع پر وزیر خزانہ نے عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں سے اہم ملاقاتیں کیں
وزیر خزانہ نے عالمی ریٹنگ ایجنسی Moody s کے نمائندگان سے بھی ملاقات کی، جہاں انہوں نے پاکستان کی معاشی بہتری اور مالیاتی نظم و ضبط کو واضح کیا اور کہا کہ پاکستان نے 1.4 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی کامیابی سے مکمل کر لی ہے، جو عالمی مالیاتی ذمہ داریوں کی بروقت ادائیگی کے عزم کا ثبوت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام قرض دہندگان کی ذمہ داریاں وقت پر پوری کی جا رہی ہیں، جس سے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے اور پاکستان کی ساکھ بہتر ہو رہی ہے۔
Finance Minister Witnesses Signing of Saudi Deposit Extension Agreement with State Bank of Pakistan
— Ministry of Finance, Government of Pakistan (@Financegovpk) April 17, 2026
Federal Minister for Finance and Revenue, Senator Muhammad Aurangzeb, witnessed the signing of an important financial agreement in Washington, D.C., in the presence of the… pic.twitter.com/2BCoaWPhNL
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی مالی معاونت زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے، جو موجودہ معاشی حالات میں نہایت اہم ہے۔
وزیر خزانہ نے اس موقع پر عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کے لیے درمیانی مدت کی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئےکہا حکومت مختلف مالیاتی ذرائع، بشمول یورو بانڈز اور دیگر کمرشل فنانسنگ آپشنز، کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ مالیاتی وسائل کو متنوع بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ صرف قرض کے حصول پر نہیں بلکہ پائیدار معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور شفافیت کو یقینی بنانے پر ہے، تاکہ طویل المدتی بنیادوں پر معیشت کو مضبوط کیا جا سکے۔
وزیر خزانہ نے جاری علاقائی صورتحال، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے تناظر میں توانائی کے شعبے کو درپیش چیلنجز کا بھی ذکر کیا، حکومت توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے اور قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال کے باوجود پاکستان محتاط معاشی پالیسیوں اور عالمی شراکت داری کے ذریعے اپنے مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے بروقت قرض ادائیگی، عالمی اداروں سے مسلسل رابطے اور دوست ممالک کی معاونت جیسے اقدامات نہ صرف موجودہ معاشی دباؤ کو کم کریں گے بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں ملک کی ساکھ کو بھی مزید مضبوط بنائیں گے۔







