سوشل اکاؤنٹ  ایکس پر اپنے بیان میں  حافظ نعیم الرحمان نے الزام عائد کیا کہ کراچی میں سیاسی و عوامی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شہری ’’حق دو کراچی‘‘ کا نعرہ لگائیں تو کیا انہیں گرفتار کیا جائے گا؟

انہوں نے کہا کہ اس طرزِ عمل کو وہ جمہوری رویہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے انہوں نے سخت الفاظ میں غیر جمہوری اور آمرانہ طرزِ سیاست قرار دیا،احتجاج اور سیاسی اظہار رائے کو دبانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے مزید کہا کہ سندھ کی بڑی آبادی اور پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ کراچی سے وابستہ ہے، اس کے باوجود شہر کے مسائل حل نہیں ہو رہے۔ ان کے مطابق ’’حق دو کراچی‘‘ کا نعرہ کسی مخصوص جماعت، مسلک یا برادری کا نہیں بلکہ شہر کے ساڑھے تین کروڑ سے زائد شہریوں کی اجتماعی آواز ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کراچی کے شہریوں کو ان کے آئینی اور بنیادی حقوق نہیں مل جاتے۔

حافظ نعیم الرحمان نے اپنی پوسٹ میں پیپلز پارٹی کی کراچی پالیسی پر بھی تنقید کی اور اسے شہر کے مسائل سے عدم توجہی قرار دیا۔

انہوں نے کراچی کے بنیادی مسائل کی جانب بھی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ اٹھارہ برسوں کے دوران شہر کی آبادی تین کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، تاہم شہریوں کو پانی، ٹرانسپورٹ اور سڑکوں جیسی بنیادی سہولیات مطلوبہ معیار کے مطابق فراہم نہیں کی جا سکیں۔

مزید پڑھیں: ‏پورا ملک بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے بری طرح متاثر ہے، حافظ نعیم الرحمان

انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے استعمال پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کراچی میں سیاسی جماعتوں کے درمیان شہری حقوق اور انتظامی امور پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔