سوشل میڈیا اکاؤنٹ  ایکس پر جاری اپنے  بیان میں ایرانی سفیر  رضا امیری مقدم نے کہا کہ بعض طاقتیں ایک طرف سخت بیانات اور دباؤ کی پالیسی اپناتی ہیں جبکہ دوسری جانب سفارت کاری کا دعویٰ بھی کرتی ہیں، جو کہ کھلا تضاد ہے،محض فصاحت و بلاغت سے بھرپور بیانات دینے سے حقائق تبدیل نہیں ہوتے اور نہ ہی اس سے مسائل کا حل نکلتا ہے۔

ایرانی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ عالمی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی، اقتصادی اور عسکری دباؤ، اور جنگی کارروائیوں کی دھمکیاں نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی سطح پر عدم استحکام کو بھی جنم دے سکتی ہیں۔ مسائل کے حل کے لیے باہمی احترام، برابری اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی، اس وقت تک اختلافات برقرار رہیں گے اور کسی بھی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کا حامی رہا ہے، تاہم یکطرفہ دباؤ اور دھمکیوں کے ماحول میں بامعنی بات چیت ممکن نہیں رہتی۔

دوسری جانب امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایرانی بحری جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے قریب کی گئی جہاں مبینہ طور پر مذکورہ جہاز امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

مزید پڑھیں: مذاکرات کے دوران امریکی اور ایرانی وفود اٹھ کر چلے جاتے تھے لیکن وزیراعظم اور فیلڈ مارشل انہیں دوبارہ بٹھا دیتے تھے، ایاز صادق

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کو روکنے کے بعد اسے مکمل طور پر کنٹرول میں لے لیا گیا اور اس حوالے سے مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔ اس پیش رفت نے پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی فورسز نے ایک ایرانی بحری جہاز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے روک لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنی پالیسیوں کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا اور ایسے اقدامات کے خلاف سخت ردعمل دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ  ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خلیج کے خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے، خصوصاً توانائی کی ترسیل اور تیل کی قیمتوں پر اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے اور کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔