اس موقع پر شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جب ہم غزہ و فلسطین میں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو دیکھتے ہیں تواندازہ ہوتا ہے کہ یہ بظاہر جن کو صنفِ نازک کہا جاتا ہے، یہ صنفِ آہن ہوتی ہیں اور ان کی ہمت کی وجہ سے پوری قوم کو ہمت ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی مائیں جس گود میں اپنے بچوں کو کھلاتی ہیں، ان کی تربیت کرتی ہیں، یہ اس کا ثمر ہے کہ مسلسل دو سال بارود برستا رہا، لوگ شہید ہوتے رہے، ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں، خواتین شہید ہوتی رہیں، بزرگ اور جوان جاتے رہے، لیکن ان کے پائے استقامت میں لغزش نہیں آئی۔
امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ فلسطینوں نے کوہِ گراں بن کر اسرائیلی دہشتگردی کا مقابلہ کیااور پوری قوم جو غزہ کے ایک چھوٹے سے علاقے میں بائیس اور تیئس لاکھ انسانوں پر مشتمل اس آبادی کو اپنے ہی علاقے میں کئی بار ہجرت کرنی پڑی۔
ان کا کہنا تھا کہ سارے کا سارا غزہ حماس کے ساتھ کھڑا ہوا ہے، اسرائیل اور امریکا نے کوشش کی اور بہت سے ممالک بھی اس میں شامل ہوئے کہ غزہ کے عوام اور حماس کے درمیان خلیج پیدا کردی جائے اور ان کو یہ بتایا جائے کہ دیکھو تمہارے اوپر جو یہ مصیبتیں ہیں، وہ ان کی وجہ سے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ الحمداللہ پورا فلسطین حماس کے کھڑا ہوا ہے، نیتن یاہو اور اسرائیل جوکہ حماس کے خاتمے کا اعلان کررہے تھے، انہیں آخری مذاکرات بھی حماس کے ساتھ بیٹھ کر ہی کرنے پڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے دو سال میں اتنا بھی نہیں ہوسکا کہ وہ طاقت کے ذریعے اپنا ایک قیدی بھی چھڑوا سکے، سیزفائر دراصل فلسطین کے مجاہدوں کی، حماس کی اور اہلِ غزہ کی کامیابی ہے۔
مارچ کے شرکاء نے فلسطینی عوام کی جدوجہد اور بہادری کو سلام پیش کیا اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھرپور نعرے لگائے۔ شرکاء کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام تنہا نہیں، پوری اُمت ان کے ساتھ ہے۔
مزید پڑھیں: جب بھی ملک درست راہ پر گامزن ہوتا ہے تو انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، ڈی جی آپریشنز
غزہ مارچ کے موقع پر جماعتِ اسلامی پاکستان کے نائب امیر ڈاکٹر عطا الرحمن، امیر جماعتِ اسلامی خیبر وسطی عبدالواسع اور دیگر صوبائی قیادت سٹیج پر موجود ہیں۔
واضح رہے کہ مارچ کے شرکاء سے امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان بھی خطاب کریں گے۔







