اجلاس کے دوران وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو واضح ہدایت دی کہ ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے جاری اقدامات کو مزید رفتار دی جائے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، توانائی کے شعبے میں بہتری آئے اور ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی ممکن ہو۔
وزیراعظم نے خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے کے لیے الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر سبسڈی کے پروگرام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تقسیم ہر صورت شفاف اور مؤثر ہونی چاہیے تاکہ اصل مستحق افراد تک اس کے فوائد پہنچ سکیں،اس اسکیم میں کسی قسم کی سستی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ملک میں الیکٹرک بائیکس اور رکشہ سازی کے لیے اب تک 72 مینوفیکچرنگ سرٹیفیکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جس سے اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اسی طرح الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے 4 مختلف کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں، جو پاکستان میں ای وی انڈسٹری کی بنیاد مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ ملک میں ای وی چارجنگ انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے نجی شعبے کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور اب تک 123 درخواستیں چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے لیے موصول ہو چکی ہیں، جو مستقبل میں برقی ٹرانسپورٹ کے پھیلاؤ کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: برطانوی ہائی کمشنر کی اسحاق ڈار سے ملاقات، پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف
اجلاس میں بریفنگ کے دوران مزید بتایا گیا کہ حکومت نے آئندہ پانچ سال کے دوران ملک میں 30 فیصد گاڑیوں کو الیکٹرک ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس سے تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک کی سالانہ ایندھن درآمدی بچت متوقع ہے۔
واضح رہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو نہ صرف پاکستان میں ایندھن کی درآمدی لاگت کم ہوگی بلکہ فضائی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آئے گی، جبکہ شہری ٹرانسپورٹ نظام زیادہ جدید، سستا اور ماحول دوست بن سکے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی طرف یہ منتقلی اگر مستقل پالیسی اور مؤثر عملدرآمد کے ساتھ جاری رہی تو آنے والے برسوں میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔







